خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 527
خطبات مسرور جلد سوم 527 خطبہ جمعہ 26 اگست 2005 ء دوسرا اس سے فائدہ نہ اٹھا لے۔یہ اصول ہر ایسی جگہ پہ لاگو ہو گا جہاں بھی ضد سے کام چل رہے ہوں گے۔تو ان ضدوں کو بھی چھوڑ نا ہوگا۔اور ضدوں کو چھوڑیں گے تو آپس میں محبتیں بکھیر نے والے بنیں گے ) میری حالت پر افسوس ہے اگر میں نہ اٹھوں اور محبت اور ہمدردی کی راہ سے اپنی چار پائی اس کو نہ دوں اور اپنے لئے فرش زمین پسند نہ کروں۔اگر میرا بھائی بیمار ہے اور کسی درد سے لاچار ہے تو میری حالت پر حیف ہے اگر میں اس کے مقابل پر امن سے سور ہوں۔اور اس کے لیے جہاں تک میرے بس میں ہے آرام رسانی کی تدبیر نہ کروں۔اور اگر کوئی میرا دینی بھائی اپنی نفسانیت سے مجھ سے کچھ سخت گوئی کرے تو میری حالت پر حیف ہے اگر میں بھی دیدہ و دانستہ اس سے سختی سے پیش آؤں۔بلکہ مجھے چاہئے کہ میں اس کی باتوں پر صبر کروں اور اپنی نمازوں میں اس کے لیے رو رو کر دعا کروں کیونکہ وہ میرا بھائی ہے اور روحانی طور پر بیمار ہے۔اگر میرا بھائی سادہ ہو یا کم علم یا سادگی سے کوئی خطا اس سے سرزد ہو تو مجھے نہیں چاہئے کہ میں اس سے ٹھٹھا کروں یا چیں برجیں ہو کر تیزی دکھاؤں یا بد نیتی سے اس کی عیب گیری کروں کہ یہ سب ہلاکت کی راہیں ہیں کسی کے اس طرح عیب تلاش کرنا بھی اور جو باقی باتیں ہوئی ہیں) کوئی سچا مومن نہیں ہو سکتا جب تک اس کا دل نرم نہ ہو۔جب تک وہ اپنے تئیں ہر ایک سے ذلیل تر نہ سمجھے اور ساری مشیختی دور نہ ہو جائیں ( یعنی اپنی خود پسندی اور بڑائی کو بیان کرنا دور نہ ہو جائے ) خادم القوم ہونا مخدوم بنے کی نشانی ہے ( قوم کا خادم بننے سے ہی بڑائی ملتی ہے، سرداری ملتی ہے ) اور غریبوں سے نرم ہو کر اور جھک کر بات کرنا مقبول الہی ہونے کی علامت ہے۔اور بدی کا نیکی کے ساتھ جواب دینا سعادت کے آثار ہیں۔اور غصہ کو کھالینا اور تلخ بات کو پی جانا نہایت درجہ کی جوانمردی ہے“۔(شہادت القرآن۔روحانی خزائن جلد 6 صفحہ 395-396) پس دیکھیں ہم جو اپنے آپ کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی جماعت میں شامل سمجھتے ہیں، ہم جو یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ ہم نے اس حبل اللہ کو پکڑا تا کہ اللہ کی رضا حاصل کرنے والے بن سکیں۔اس مقام تک پہنچنے کے لیے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ہم سے جو توقعات وابستہ کی ہیں ان پر پورا اترنے کی کوشش کرنی چاہئے۔ہمیں دعاؤں اور عمل سے