خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 469
خطبات مسرور جلد سوم 469 خطبہ جمعہ 5 راگست 2005 ء ہوگی۔شکر یہی ہے کہ اپنی جو منتیں ہیں ، جو جو استعداد میں ہیں ان کو اپنی نااہلیوں کے باوجود بھر پور طور پر بجالایا جائے ، ان کے مطابق عمل کیا جائے اور پھر معاملہ خدا پر چھوڑا جائے تو یہ شکر گزاری ہے۔جیسا کہ میں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ کی شکر گزاری میں جو تمام استعداد میں ہیں ، جسمانی طاقتیں ہیں، وسائل ہیں ، ان کو بھر پور طور پر استعمال کرنا بھی ضروری ہے اور ان کو بھر پور طور پر استعمال کرنے سے ہی شکر گزاری کا مضمون ہر ایک پر واضح ہوتا ہے۔اور یہی مضمون ہمیں اللہ تعالیٰ نے سمجھایا ہے کہ صرف زبان سے یہ کہہ دینا کہ اللہ تعالیٰ ہم تیرے شکر گزار ہیں کافی نہیں بلکہ شکر گزاری یہ ہے کہ پہلے جو اللہ تعالیٰ نے فضل کئے ہیں ان کا ذکر کرو اور آئندہ کے لئے اپنی استعدادوں کو بھر پور طور پر استعمال کرو۔جو ظاہری وسائل ہیں ان کو استعمال کرو کیونکہ یہ شکر نعمت ہے۔اور اس شکر نعمت کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کے مزید فضل کے دروازے کھلتے ہیں اور ان میں ظاہری کاموں کے علاوہ یہ جو میں نے بتایا کہ استعداد یں ہیں۔ظاہری طور پر اپنے ہاتھ سے کام کرنے ہیں، اس کے علاوہ اللہ تعالیٰ کے حکموں کے مطابق اپنی زندگی گزارنا بھی ہے۔نیک اعمال بجالانا بھی ہے، دعاؤں پر زور دینا بھی ہے۔بندوں کے حقوق ادا کرنا بھی ہے۔ایک دوسرے سے تعاون اور شکر کے جذبات کو بڑھانا بھی ہے۔اس لئے حدیث میں آتا ہے آنحضور ﷺ نے فرمایا ہے کہ جو شخص لوگوں کا شکر گزار نہیں ہوتا ، ان کا شکر ادا نہیں کرتا وہ خدا کا بھی شکر ادا نہیں کرتا۔پس آج احمدی ہی ہیں جو اس مضمون کو سمجھتے ہوئے اپنی زندگیاں گزارنے کی کوشش کرتے ہیں اور یہ نیک اعمال ، اور ایک دوسرے کے حقوق کی ادائیگی اور ایک دوسرے کے لئے شکرانے کے جذبات سے اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو بھی سمیٹتے ہیں۔بحیثیت مجموعی اللہ تعالیٰ کے فضل سے جماعت احمد یہ میں ان نیکیوں پر چلنے والے لوگ بہت ہیں۔اور اسی لئے ہم ہر آن جماعت پر اللہ تعالیٰ کے فضلوں کی بارش ہوتے دیکھتے ہیں اور اس پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہیں۔اور یہ شکر کے جذبات ہر موقع پر اور خاص طور پر جلسوں پر پہلے سے بڑھ کر ادا کرنے کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کے فضلوں کی صورت میں ہمیں نظر آتے ہیں۔پس یہ اصل مضمون ہے جو کبھی کسی احمدی کو بھولنا نہیں چاہئے۔شکرانے کے ان جذبات کی وجہ سے میں تمام کارکنان کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں۔