خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 470 of 844

خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 470

خطبات مسرور جلد سوم 470 خطبه جمعه 5 راگست 2005 ء کارکنوں کی اکثریت ایسی ہے جو یہاں کے پلے بڑھے بچے اور نوجوان ہیں۔سب نے بڑی محنت سے رات دن ایک کر کے اپنے فرائض کی ادائیگی کی۔اور ان ملکوں میں جہاں بچوں اور نو جوانوں کی ترجیحات بالکل اور طرح کی ہیں عجیب و غریب قسم کی مصروفیات ہیں۔خدا تعالیٰ سے دور لے جانے والی مصروفیات ہیں ایک احمدی بچے اور نوجوان کی ترجیح اللہ تعالیٰ کی خاطر ، اس کے حکموں پر چلتے ہوئے ، کام کرنا اور نیک اعمال بجالانا ہے۔یہ لوگ دنیاوی کھیل کود کو پس پشت ڈال کر اللہ تعالیٰ کی خاطر اس کے مہمانوں کی خدمت کے لئے ہمہ وقت تیار رہتے ہیں۔نہ رات دیکھتے ہیں، نہ دن بعض کارکنوں کو تو میں نے خود دیکھا ہے کہ مختلف وقتوں میں جس طرح انہوں نے یہ تین دن ،رات دن جاگ کر گزارے ہیں۔کوئی کھیل نہیں ہور ہے، کوئی اور اس قسم کی دلچسپی کی باتیں نہیں ہور ہیں بلکہ بڑی توجہ سے ، بڑی محنت سے ، مہمانوں کی خدمت کر رہے ہیں۔خاموشی سے مہمانوں کی خدمت کے لئے کمر بستہ ہیں۔پھر یہ تین دن ہی نہیں بلکہ جلسے کے کاموں میں سے بعض تو چند مہینے پہلے شروع ہوتے ہیں لیکن ڈیوٹیاں ہفتہ دس دن پہلے سے شروع ہو جاتی ہیں اور کم از کم ایک ہفتہ بعد تک یہ کام چلتے ہیں۔لیکن یہ تمام والنٹیئر ز جن میں بچے بھی ہیں، نوجوان بھی ہیں ، بڑی عمر کے بھی ہیں ، اپنی دلچسپیوں اور اپنے کاموں کو قربان کرتے ہوئے یہاں ڈیوٹیوں کے لئے حاضر ہو جاتے ہیں۔بہر حال ان سب کا رکنان کا میں شکریہ ادا کر دیتا ہوں۔اور سب سے بڑی جزا تو اللہ تعالیٰ کے پاس ہے اللہ تعالیٰ ان سب کو جزا دے۔یہ کارکنان جو اتنی قربانی کر کے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مہمانوں کی خدمت کے لئے آتے ہیں ان سے بھی میں کہنا چاہتا ہوں کہ آپ کو اس خدمت کا موقع اللہ تعالیٰ نے عطا فرمایا۔آپ کو بھی اس خدمت کی وجہ سے شکر گزار ہونا چاہئے اور شکر کرنا چاہئے۔یہ محض اور محض اللہ تعالیٰ کا فضل ہے کہ اس نے ان مہمانوں کی خدمت کی آپ کو توفیق دی اور اپنے خاص فضل سے پردہ پوشی فرمائی کیونکہ بہت سے کاموں میں کمیاں ، خامیاں رہ جاتی ہیں۔لیکن اللہ تعالیٰ نے آپ کی پردہ پوشی فرمائی اور تمام کام خیریت سے انجام کو پہنچے۔اس پردہ پوشی کے ضمن میں یہ ذکر کر دوں کہ ایک مہمان کسی دوسرے ملک سے آئے ہوئے