خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 467 of 844

خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 467

خطبات مسرور جلد سوم 467 خطبه جمعه 5 راگست 2005 ء اپنے بندوں کی بھلائی کے لئے بہتری کے لئے ، یہ چاہتا ہے کہ وہ ناشکری کرنے والے اور کفر کرنے والے نہ ہوں بلکہ اس کے شکر گزار ہوں۔اور فرمایا کہ یہ شکر گزاری کے جذبات اور عمل تمہیں خدا تعالیٰ کا قرب دلانے والے ہوں گے۔اور پھر اسی قرب کی وجہ سے، اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کی وجہ سے، اللہ تعالیٰ کے مزید فضلوں کے وارث بنو گے۔اس مضمون کو اللہ تعالیٰ نے یوں بھی بیان فرمایا ہے کہ لَئِنْ شَكَرْتُمْ لَا زِيْدَنَّكُمْ ﴾ (ابراہیم :8) یعنی اگر تم شکر ادا کرو گے تو میں تمہیں ضرور بڑھاؤں گا۔یقینا تم میری رضا کو اس شکر کی وجہ سے مزید حاصل کرنے والے ہو گے۔اس لئے ہمیشہ شکر گزار بندے بنو۔یہ نہ سمجھو کہ بڑوں کے اعمال کی وجہ سے، بزرگوں کے اعمال کی وجہ سے ، ان کی نیکیوں کی وجہ سے، ان کی شکر گزاری کے جذبات کی وجہ سے جو جماعت پر فضلوں کی بارشیں ہوتی رہیں وہ اسی طرح جاری رہیں گی۔تمہارے بزرگوں نے شکر کر لیا تمہیں شکر گزاری کی ضرورت نہیں نہیں، بلکہ فرمایا کہ تم میری رضا تب حاصل کر سکو گے جبکہ خود شکرگزار بندے بنو گے اور شکر گزاری کرتے ہوئے ، میرے بتائے ہوئے راستوں پر چلتے رہو گے۔اور یہی شکر گزاری کے جذبات ہیں جو تمہیں اس دنیا میں بھی اور اگلے جہان میں بھی اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے والے بنائیں گے۔تمہاری کوئی نیکی ضائع نہیں جائے گی۔تمہارا شکر کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کے حضور جھکنا خدا تعالیٰ کبھی ضائع نہیں کرے گا بشرطیکہ یہ نیک نیتی سے ہو۔اللہ کو دھوکہ نہیں دیا جا سکتا کیونکہ وہ ہمارے دلوں کے حال کو جانتا ہے۔ہماری کنہ تک سے واقف ہے۔وہ سینوں میں چھپی ہوئی باتوں کو جانتا ہے۔اللہ کرے کہ یہ شکر گزاری کے جذبات اور پاک دل ہو کر اس کے آگے شکر کرتے ہوئے جھکنے کے عمل ہر احمدی سے ظاہر ہورہے ہوں اور ہر احمدی میں نظر آ رہے ہوں اور ہمیشہ نظر آتے رہیں تا کہ ہم اللہ تعالیٰ کے مزید فضلوں کو سمیٹنے والے ہوں۔ہمارا تو جو کچھ ہے خدا تعالیٰ کی ذات ہے اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہے۔اس بات کو احمدی خوب سمجھتے ہیں اور اسی لئے ہمارے سب کام دعا سے شروع ہوتے ہیں اور پھر اللہ تعالیٰ کے فضلوں کے ایسے نظارے نظر آتے ہیں کہ حیرانی ہوتی ہے۔جلسے کے بعد مختلف ملکوں کے احمدیوں نے جلسہ کی کا میابی کی فیکس بھیجیں۔خطوط لکھے اور ہر ایک خط میں اور فیکس میں بلا استثناء یہ بات مشترک تھی کہ