خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 464
خطبات مسرور جلد سوم 464 خطبہ جمعہ 29 جولائی 2005ء ہیں۔اس لئے ہم نے بہر حال اپنے اچھے نمونے قائم کرنے ہیں اور اگر ان کی طرف سے، نوجوان لڑکوں کی طرف سے بعض اوقات شرارت ہو جاتی ہے، اگر کوئی شرارت کرے بھی اور آپ سے چھیڑ چھاڑ بھی کرے تو اس سے بچنے کے لئے اگر ضرورت ہو اور وہاں کوئی پولیس والا ہے تو اس سے مدد لے لیں۔اول تو یہ کہ صبر کریں اور وہاں سے نکل آئیں اور اگر پھر بھی آپ کو جسمانی طور پر کوئی اذیت پہنچانے کی کوشش کرتا ہے تو پولیس کو اطلاع کریں، انتظامیہ کو اطلاع کریں۔لیکن خود براہ راست کوشش کریں کہ وہاں سے نکل جائیں اور کسی قسم کا موقع کسی کو نہ ملے۔کیونکہ ایسی شرات والی جگہوں کے بارے میں یہی حکم ہے کہ وہاں سے آ جاؤ۔اور عورتیں خاص طور پر ان دنوں میں چھوٹی چھوٹی جگہوں پر بازاروں وغیرہ میں پھرنے کی کوشش نہ کریں۔جو باہر سے آئی ہوئی ہیں ان کو بعض دفعہ پتہ نہیں لگتا کسی بھی قسم کی کوئی شرارت ہو سکتی ہے۔پھر جلسہ گاہ اور اس پورے علاقے میں جو ہماری مارکیوں کی جگہ ہے، رہائشی علاقہ ہے جو بھی ہم نے پورا امر یا لیا ہوا ہے اس میں عموماً تو ڈیوٹی سیکیورٹی والوں کی لگی ہوئی ہے، خدام کی لگی ہوئی ہے، پولیس بھی نگرانی رکھ رہی ہے۔لیکن ہر ایک کو بھی اپنے ماحول پر نظر رکھنی چاہئے۔اور اگر کسی کو دیکھیں کہ شرارت کی غرض سے کوئی اندر آ گیا ہے تو فوری طور پر انتظامیہ کو اطلاع کریں۔اگر کسی پر بھی آپ کو شک پڑتا ہے اس کو نظر میں رکھیں اور ساتھ ساتھ رہیں ، نظر سے اوجھل نہ ہونے دیں۔اور عورتوں میں بھی خاص طور پر اس بات کا خاص خیال رکھنا چاہئے اور اگر کوئی برقعہ پوش بھی اندر آئے اور وہ نقاب وغیرہ نہیں اتارتی تو اس پہ تو خاص طور پر نظر رکھنی چاہئے۔اور بیگ وغیرہ بھی چیک ہونے چاہئیں لیکن اس طرح کہ کسی کو تکلیف نہ ہو۔اور سب سے بڑھ کر جس طرح میں نے کہا کہ ہر احمدی کا یہ فرض بنتا ہے کہ اپنے اصلاح نفس کے ساتھ ساتھ ، خود برکتیں سمیٹنے کے ساتھ ساتھ جلسے کے بابرکت ہونے کے لئے بھی اور خیریت سے اختتام پذیر ہونے کے لئے بھی دعائیں کرتے رہیں اور دعاؤں میں وقت گزاریں۔اللہ تعالیٰ سب پر اپنا فضل فرمائے اور ہر ایک کو برکات سے حصہ لینے کی توفیق عطا فرمائے۔谢谢谢