خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 40 of 844

خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 40

خطبات مسرور جلد سوم 40 خطبہ جمعہ 28 /جنوری 2005ء قدم پڑنے کی بجائے وہیں پر کھڑے ہو جائیں، تبدیلیوں کا اثر زائل ہونا شروع ہو جائے۔کیونکہ اگر کھڑے ہو گئے تو پھر پیچھے جانے کا خطرہ بھی پیدا ہو سکتا ہے۔اس لئے اگر قدم آگے بڑھنے شروع ہوئے ہیں تو یہ اب زندگی کا معمول بن جانا چاہئے ، روز مرہ کا حصہ بن جانا چاہئے۔رفتار میں کمی بیشی تو ہو سکتی ہے لیکن قدم رکنے کبھی نہیں چاہئیں۔ہر سال تو ہر ملک کے دورے ہو بھی نہیں سکتے کہ آ کر پھر دھکا لگایا جائے اور پھر آپ چلیں۔پھر بہت سے ایسے ممالک ہیں جہاں حالات یا مجبوریوں کی وجہ سے دورے نہیں ہو سکتے۔اگر سب ممالک دوروں کی انتظار میں رہیں گے تو پھر جس مقصد کے حاصل کرنے کے لئے ہم نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو مانا ہے اس مقصد کا حصول تو بڑا مشکل ہو جائے گا۔مقصد یہی ہے کہ اپنے اندر بھی پاک تبدیلیاں پیدا کرنی ہیں اور اس پیغام کو بھی آگے پہنچانا ہے۔اب جو اللہ تعالیٰ نے ایم ٹی اے کی نعمت ہمیں عطا فرمائی ہے اس سے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اسلام کی جو حقیقی تعلیم ہمیں دی ہے وہ خلیفہ وقت کی آواز میں سب تک پہنچ رہی ہے۔اس آواز کے پہنچنے میں تو کوئی روک نہیں ہے ، اس کو تو کسی ملک کا ویزا در کار نہیں ہے، اس کو تو کسی ملک کے مُلاں کی مرضی کے مطابق خطبات دینے کی ضرورت نہیں ہے۔یہ تو ہوائی لہروں پر ہر گھر میں، ہر شہر میں، اپنی اصلی حالت میں اسی طرح اتر رہی ہے جس طرح اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا اور جس طرح حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ہمیں بتایا۔پس جو تبدیلیاں پیدا کی ہیں ان کو عارضی تبدیلیاں نہ بنائیں بلکہ یہ تبدیلیاں اب زندگی کا حصہ بن جانی چاہئیں۔احمدیت یعنی حقیقی اسلام کے پیغام کو اپنی زندگیوں کا حصہ بھی بنائیں اور اپنے ماحول کو بھی بتا ئیں۔ان کو بھی اس نعمت سے فیض اٹھانے کی طرف توجہ دلائیں۔یہ نہ ہو کہ احمدیت کا پیغام کسی جگہ نہ پہنچا ہو اور اس جگہ کے رہنے والے یہ شکوہ کریں کہ کیوں یہ پیغام ہمیں نہیں پہنچایا گیا۔اللہ تعالیٰ کا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے وعدہ ہے کہ آپ کے پیغام نے دنیا میں پھیلنا ہے اور ضرور پھیلنا ہے انشاء اللہ اور کوئی طاقت اس کو پھیلنے سے نہیں روک سکتی۔