خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 461
خطبات مسرور جلد سوم 461 خطبہ جمعہ 29 جولائی 2005 ء ماحول مختلف ہے پہلی دفعہ سارے انتظام کئے گئے ہیں۔ہو سکتا ہے آپ کو کچھ مشکلات بھی ہوں ، کچھ دقتیں بھی ہوں، تو حو صلے اور صبر سے ان کو برداشت کریں اور مکمل توجہ اس طرف رکھیں کہ ان دنوں میں اپنے دلوں کو ، اپنے دماغوں کو، اپنی روحوں کو اللہ تعالیٰ کے ذکر سے منور کرنا ہے اور ہر نیکی کی طرف قدم آگے بڑھانا ہے۔ان دنوں میں دعائیں کریں اور خوب دعائیں کریں ، اپنے لئے دعائیں کریں، اپنے بیوی بچوں کے لئے ، اپنی نسلوں کے لئے دعائیں کریں، جماعت کی خدمت کرنے والوں کے لئے دعائیں کریں جن میں باقاعدہ خدمت کرنے والے بھی ہیں ، واقفین زندگی بھی ہیں اور مختلف دوسری خدمات کرنے والے والینٹیر ز بھی ہیں۔مختلف ممالک میں جو مبلغین جماعت کے پھیلے ہوئے ہیں ان کے لئے بھی دعائیں کریں۔جماعت کے لئے دعائیں کریں، جماعت کی ترقیات کے لئے دعائیں کریں۔مختلف ممالک میں مثلاً انڈونیشیا میں آجکل خاص طور پر مخالفین نے بہت شور مچایا ہوا ہے حکومت پر دباؤ ہے کہ جماعت کو یہاں بین (Ban) کیا جائے ، پابندی لگائی جائے۔اسی طرح بنگلہ دیش میں بھی مخالفین وقتا فوقتا شوشے چھوڑتے رہتے ہیں۔انڈونیشیا میں گزشتہ جلسے کے دوران مخالفین نے حملہ بھی کیا۔لوگ بھی زخمی کئے ، نقصان بھی پہنچایا۔پھر وہاں ہمارا سنٹر ہے وہاں بھی حملہ کیا۔بظاہر حکومت بھی مخالفین کے دباؤ میں ہی لگ رہی ہے۔ان دنوں میں ان مظلوموں کے لئے بھی خاص طور پر دعائیں کریں۔اللہ تعالیٰ ہر احمدی کو ہر شر سے محفوظ رکھے اور جس طرح یہاں امن کی فضا میں جلسے منعقد کر رہے ہیں یا کر سکتے ہیں وہاں بھی اور پاکستان میں بھی ایسے مواقع میسر آجائیں۔یہ بہر حال یہاں کی حکومت کا احسان ہے کہ باوجود اس کے کہ گزشتہ دنوں میں جو واقعہ ہوا، ٹرینوں میں جو بم پھٹے ہیں اور جانی نقصان ہوا ہے اور عموماً یہی کہا جا رہا ہے کہ جو مجرم ہیں وہ پاکستانی ہیں یا مسلمان ہیں۔بہر حال یہ مسلمانوں پر الزام لگ رہا ہے۔تو یہاں مقامی لوگوں میں سے جو بعض شدت پسند ہیں مسلمانوں کے خلاف شدید رد عمل کا اظہار کرتے ہیں لیکن یہ لوگ یعنی حکومت ، بہر حال انصاف کے تقاضے پورے کرتی ہے اور کر رہی ہے۔مکمل طور پر ظاہری تحفظ کا سامان ہمیں مہیا کر رہے ہیں۔اللہ تعالیٰ ان کو جزا دے اور ان نیکیوں کے عوض ان لوگوں کو بھی حق پہچاننے کی توفیق