خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 460
خطبات مسرور جلد سوم 460 خطبہ جمعہ 29 جولائی 2005ء پس یہ اخلاص ہے جس کو ہر احمدی کو اپنے سامنے رکھنا چاہئے اور اس مقصد کے لئے آنا چاہئے۔جیسا کہ آپ نے فرمایا کہ جو کام ہو اللہ کے لئے ہو اور جو بات ہو خدا کے واسطے ہو۔اس اصول کو ہر ایک اپنے سامنے رکھے اور جلسہ کی برکات سے فائدہ اٹھائے اور ہر ہر قدم پر اللہ تعالیٰ کی رضا کو حاصل کرنے کی کوشش کرے۔ان دنوں کو دعاؤں میں گزاریں۔تمام پروگراموں کو سنیں۔دھیان ہر وقت یہاں بیٹھ کے یہ نہ ہو کہ میں بازار جاؤں گا اور شاپنگ کروں گا یا فلاں کام کرنا ہے یا فلاں کا روبار کی طرف دیکھنا ہے۔بلکہ جلسے پر آئے ہیں تو جلسے کے مقصد کو ہی پیش نظر رکھیں۔اور ہر نیکی کی بات جو سنیں اس کو اپنانے کی کوشش کریں۔اپنی زندگیاں اسی طرح گزارنے کی کوشش کریں جس طرح نیکی کی باتیں آپ کو سکھائی جارہی ہیں۔نمازوں اور نوافل کو خاص اہتمام سے ادا کریں۔جب ان دنوں خاص طور پر ذکر الہی اور دعاؤں کا ماحول ہوگا تو اللہ تعالیٰ کی برکات سے آپ ہر لمحہ فیض پارہے ہوں گے۔اس ذکر الہی کے نکتے کو حضرت مصلح موعودؓ نے بڑے خوبصورت انداز میں یوں بیان فرمایا ہے۔آپ نے فرمایا کہ: ” مجھے ایک اور خیال آیا اور وہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ جلسے کے ایام میں ذکر 66 الہی کرو۔اس کا فائدہ خدا تعالیٰ نے یہ بتایا ہے کہ " اذْكُرُوا اللهَ يَذْكُرْكُمْ ، اگر تم ذکر الہی کرو گے تو خدا تمہارا ذکر کرنا شروع کر دے گا۔بھلا اس بندے جیسا خوش قسمت کون ہے جس کو اپنا آقا یاد کرے اور بلائے۔ذکر الہی تو ہے ہی بڑی نعمت خواہ اس کے عوض انعام ملے نہ ملے۔پس تم ذکر الہی میں مشغول رہو۔پس یہ دن اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو کھینچنے کے خاص دن ہیں اس میں ان باتوں کی طرف توجہ کرنے کی بجائے ، جیسا کہ میں نے کہا کہ فلاں میری ضرورت پوری ہو اور فلاں کام ہو جائے۔میں جو جلسہ سننے کے لئے آیا ہوں، ہمیں مہمان تھا میری فلاں ضرورتیں پوری نہیں کی گئیں اور فلاں بات کا خیال نہیں رکھا گیا، فلاں انتظام درست نہیں تھا، اس طرح کے چھوٹے چھوٹے اعتراض ہو سکتے ہیں۔کیونکہ جلسے کے وسیع انتظام ہیں اور ان دنوں میں اس جگہ پر خاص طور پر پورا