خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 459
خطبات مسرور جلد سوم 459 خطبہ جمعہ 29 جولائی 2005ء آدمی ہے۔میں وہاں اپنا سامان چھوڑ کے آیا تھا اس نے ابھی تک مجھے پہنچایا نہیں۔تو ان باتوں سے ہمیں بچنا چاہئے۔ایک بھی مثال جماعت میں ایسی نہیں ہونی چاہئے جو ایسی حرکتیں کرنے والے ہوں۔اور یہاں آنے کے لئے جلسے پر آنے کا جو اصل مقصد ہے اس کو ہمیشہ اپنے سامنے رکھیں۔جلسے کی برکات اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی دعاؤں سے جھولیاں بھر کر جائیں بجائے سامان کی شاپنگ کرنے کے۔اس سے اعلیٰ کوئی سامان نہیں جو آپ حاصل کریں گے۔پس اخلاص کے ساتھ جلسے میں شامل ہوں اور اس مقصد کو ہمیشہ اپنے سامنے رکھیں کہ ہم نے برکتیں حاصل کرنی ہیں اور اللہ تعالیٰ کو راضی کرنا ہے۔اور جلسے کے پروگرام سنے ہیں۔ایک جلسے کے موقع پر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا جس میں یہ بھی توجہ دلائی کہ جلسے پر بیٹھ کر آرام سے جلسہ سنو اور مکمل سنو۔صرف تقریروں وغیر ہ اور اچھائی یا برائی کونہ دیکھو بلکہ اس بات کودیکھو جو بیان کی جارہی ہے۔آپ فرماتے ہیں کہ: ”سب صاحبان متوجہ ہو کر سنیں۔میں اپنی جماعت اور خود اپنی ذات اور اپنے نفس کے لئے یہی چاہتا اور پسند کرتا ہوں کہ ظاہری قیل و قال جو لیکچروں میں ہوتی ہے اس کو ہی پسند نہ کیا جاوے اور ساری غرض و غایت آ کر اس پر ہی نہ ٹھہر جائے کہ بولنے والا کیسی جادو بھری تقریر کر رہا ہے۔الفاظ میں کیسا زور ہے۔میں اس بات پر راضی نہیں ہوتا۔میں تو یہی پسند کرتا ہوں اور نہ بناوٹ اور تکلف سے بلکہ میری طبیعت اور فطرت کا ہی یہی اقتضاء ہے کہ جو کام ہو اللہ کے لئے ہو ( میری فطرت یہی چاہتی ہے کہ جو کام ہو اللہ کے لئے ہو ) جو بات ہو خدا کے واسطے ہو۔۔مسلمانوں میں ادبارا ورز وال آنے کی یہ بڑی بھاری وجہ ہے ورنہ اس قدر کا نفرنسیں اور انجمنیں اور مجلسیں ہوتی ہیں اور وہاں بڑے بڑے لستان اور لیکچرار اپنے لیکچر پڑھتے اور تقریریں کرتے ،شاعر قوم کی حالت پر نوحہ خوانیاں کرتے ہیں۔وہ بات کیا ہے کہ اس کا کچھ بھی اثر نہیں ہوتا۔قوم دن بدن ترقی کی بجائے تنزل ہی کی طرف جاتی ہے۔بات یہی ہے کہ ان مجلسوں میں آنے جانے والے اخلاص لے کر نہیں جاتے“۔(ملفوظات جلد اول صفحه 265-266 جدید ایڈیشن)