خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 457
خطبات مسرور جلد سوم 457 خطبہ جمعہ 29 جولائی 2005 ء ہمارے ذمہ ہے۔یہ سن کر آپ اندر گئے اور ایک چارپائی میرے لئے بھجوادی۔( تو کہتے ہیں کہ ) ایک دور وز تو وہ چار پائی میرے پاس رہی۔آخر پھر ایسا ہی معاملہ ہونے لگا جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے۔پھر کسی نے آپ سے کہہ دیا۔پھر آپ نے اور چار پائی بھجوادی۔پھر ایک روز کے بعد وہی معاملہ پیش آیا۔پھر آپ کو کسی نے اطلاع دی اور صبح کی نماز کے بعد ( حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے مجھ سے فرمایا کہ صاحبزادہ صاحب! بات تو یہی ہے جو تم کرتے ہو۔اور ہمارے احباب کو ایسا ہی کرنا چاہئے۔(مہمان نوازی اسی طرح کرنی چاہئے لیکن تم ایک کام کرو، ہم ایک زنجیر لگا دیتے ہیں چار پائی میں زنجیر باندھ کر چھت میں لٹکا دیا کرو۔مولوی عبدالکریم صاحب مرحوم ( وہاں کھڑے تھے ) یہ سن کر ہنس پڑے اور کہنے لگے کہ ایسے بھی استاد آتے ہیں جو اس کو بھی اتار لیں گے۔پھر آپ ( یعنی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ) بھی ہنسنے لگے۔(سیرت حضرت مسیح موعود مصنفه شيخ يعقوب على صاحب عرفانی صفحه 344-345) تو آپ نے یہی فرمایا کہ اعلیٰ اخلاق تو یہی ہیں جو صاحبزادہ صاحب دکھا رہے ہیں لیکن اس حدیث کے مطابق خاموش رہو یا اچھی بات کرو مہمان کو کچھ کہنا نہیں۔ہاں حفاظتی انتظام ہے اس کی طرف توجہ دلا دی کہ کس طرح اپنی چارپائی کو محفوظ کر لو۔مہمان کی مہمان نوازی تو ضروری ہے لیکن مہمان کو بھی یہ خیال ہونا چاہئے کہ دھونس سے تو اپنا حق نہ لے۔پھر اس کا ایک ہی علاج ہو گا کہ ہر چیز کو تالا لگا دے تاکہ مہمانوں سے محفوظ رہے۔مہمانوں کو اپنے مہمان ہونے کا حق بھی جائز طور پر استعمال کرنا چاہئے۔یہ نہیں کہ تین دن کے بعد مہمان گھر پر قبضہ کر کے بیٹھا ہو اور گھر والا باہر ہو۔گو جلسے کے دنوں میں یوں ہوتا بھی ہے۔ربوہ میں بھی اس طرح ہوا کرتا تھا اور قادیان کے متعلق بھی یہی بتایا جاتا ہے کہ اسی طرح ہوتا تھا کہ جلسے کے دنوں میں تین ، چار پانچ چھ دن کے لئے ، بعض دفعہ ہفتے کے لئے لوگ اپنے گھر مہمانوں کے لئے دے دیا کرتے تھے۔دس دن کے لئے بھی دے دیتے تھے اور خود باہر خیموں میں جا کر سو جایا کرتے تھے۔لیکن یہ گھر والے کی خوشی سے ہوتا ہے۔زبر دستی مہمان کسی کے بستر ، پلنگ یا گھر پر قبضہ نہیں کرتے۔جہاں میزبان کے اعلیٰ اخلاق ہیں اور وہ اعلیٰ اخلاق دکھلاتا ہے وہاں مہمانوں کو بھی اعلیٰ اخلاق دکھانے چاہئیں۔یہاں