خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 456
خطبات مسرور جلد سوم 456 خطبہ جمعہ 29 جولائی 2005ء لیں تو تھوڑ اسا اور ڈال دیں۔لیکن عموماً یہ دیکھنے میں آیا ہے کہ بچوں کی پلیٹیں بھر دی جاتی ہیں اور وہ کھا بھی نہیں سکتے۔اس طرح بعض لوگ عادتا خود بھی اپنی پلیٹیں بھر لیتے ہیں اور کھا نہیں سکتے اور کھانا ضائع ہو رہا ہوتا ہے۔اس لحاظ سے بھی بہت احتیاط کرنی چاہئے اور جلسے کے دنوں میں تو خاص طور پر کھانا اگر خود ڈال رہے ہیں تو خود بھی احتیاط کریں اور جو کھانا ڈالنے والے کارکنان ہیں اگر وہ ڈال کر دے رہے ہیں تو وہ بھی احتیاط کریں۔بے شک بار بار ڈال کر دیں۔کسی ڈیوٹی والے نے مہمان کو کھانا دینے سے بہر حال انکار نہیں کرنا۔لیکن مہمان بھی اتنا زائد نہ ڈلوائیں جتنا وہ کھا نہ سکیں۔اب میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ایک صحابی کی مہمان نوازی کا واقعہ بیان کرتا ہوں کہ وہ کس طرح مہمان نوازی کرتے تھے اور مہمان ان کے ساتھ کیا سلوک کرتے تھے۔حضرت پیر سراج الحق صاحب نعمانی تحریر کرتے ہیں کہتے ہیں کہ اب میں وہ واقعہ لکھتا ہوں جس کا وعدہ اوپر کر آیا ہوں۔(وہ بیان کر رہے تھے ) وہ یہ ہے کہ میرے لئے جو ایک چار پائی حضرت اقدس علیہ الصلوۃ والسلام نے دے رکھی تھی۔جب مہمان آتے تو میری چار پائی پر بعض صاحب لیٹ جاتے اور میں مصلی زمین پر بچھا کر لیٹ جاتا اور جو میں بستر چار پائی پر بچھا لیتا تو بعض مہمان اسی چار پائی بستر شدہ پر لیٹ جاتے (یعنی بچھے ہوئے بستر پر لیٹ جاتے ( تو کہتے ہیں ) کہ میرے دل میں ذرا بھر بھی رنج یا ملال نہ ہوتا اور میں سمجھتا ہوں کہ یہ مہمان ہیں اور ہم یہاں کے رہنے والے ہیں۔اور بعض صاحب میرا بستر چار پائی کے نیچے زمین پر پھینک دیتے اور آپ اپنا بستر بچھا کر لیٹ جاتے۔ایک دفعہ ایسا ہی ہوا تو حضرت اقدس علیہ السلام کو ایک عورت نے خبر دے دی کہ حضرت پیر صاحب زمین پر لیٹے پڑے ہیں۔آپ نے فرمایا چار پائی کہاں گئی؟ اس نے کہا مجھے معلوم نہیں۔آپ فوراً باہر تشریف لائے اور گول کمرے کے سامنے ( حضرت پیر صاحب کہتے ہیں کہ ) مجھے بلایا کہ زمین پہ کیوں لیٹ رہے ہو۔برسات کا موسم ہے اور سانپ بچھو کا خطرہ ہے ( کیڑے مکوڑے نکلتے ہیں تو کہتے ہیں ) میں نے سب حال عرض کیا کہ ایسا ہوتا ہے اور میں کسی کو کچھ نہیں کہتا، نہ کہ سکتا ہوں ) آخران لوگوں کی تواضع اور خاطر و مدارت