خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 455
خطبات مسرور جلد سوم 455 خطبہ جمعہ 29 جولائی 2005 ء قصائی غلام کی طرف گیا اور اس سے کہا کہ میرے لئے پانچ آدمیوں کا کھانا تیار کر دو۔میں نے رسول اللہ عبید اللہ کے چہرے پر بھوک کے آثار دیکھے ہیں۔اس نے کھانا تیار کیا اور نبی صلی عليه وسلم اللہ علیہ وسلم اور آپ کے ساتھیوں کو جو آپ کے پاس بیٹھے تھے بلا بھیجا۔جب آنحضرت صلی اللہ چلے تو ایک اور شخص بھی آپ کے پیچھے ہو لیا جو دعوت کے لئے بلانے کے وقت موجود نہ تھا۔جب رسول الله صلی اللہ اس کے دروازے پر پہنچے تو آپ نے گھر والے سے فرمایا کہ ہمارے ساتھ ایک ایسا شخص بھی آ گیا ہے جو اس وقت ہمارے ساتھ نہ تھا جب تم نے ہمیں دعوت دی تھی۔اگر تم اجازت دو تو وہ بھی آجائے۔اس نے عرض کی ہماری طرف سے اجازت ہے کہ وہ بھی ساتھ آ جائے۔(ترمذى كتاب النكاح۔باب ما جاء فيمن يجىء الى الوليمة من غير دعوة) | یہ جو نمونے آپ علیل یا اللہ نے قائم فرمائے۔یہ ہمیں نصیحت کے لئے اور ہمیں ان باتوں کی طرف توجہ دلانے کے لئے ہیں۔آپ اگر زائد مہمان بغیر پوچھے لے بھی جاتے تو گھر والے نے کیا کہنا تھا۔گھر والوں کو تو پتہ تھا کہ اگر ایک کیا سو آدمی بھی آنحضرت علی یا اللہ لے آئیں گے تو آپ کی دعا سے کھانے میں برکت پڑ جائے گی اور وہ سب کے لئے پورا ہو جائے گا۔اور اس طرح کے نمونے صحابہ کے سامنے موجود بھی تھے کہ اس طرح کھانے میں برکت پڑتی ہے۔پس یہ نمو نے جو آپ نے قائم فرمائے ہیں یہ ہمیں نصیحت کے لئے ہیں کہ مہمان کے کیا اخلاق ہونے چاہئیں۔کسی کے گھر کوئی آگیا ہے تو اس کو بغیر اجازت کے کبھی کسی دعوت پر لے کر نہیں جانا۔اور اگر گھر والے روک دیں تو بن بلائے مہمانوں کو بھی برا نہیں منانا چاہئے۔اور یہ بنیادی اخلاق ہیں۔بعض شادیوں پر اگر میاں بیوی کو بلایا گیا ہے تو بچوں کو بھی ساتھ لے جاتے ہیں جس سے جیسا کہ میں نے کہا کہ انتظام میں خلل ہوتا ہے، انتظام متاثر ہوتا ہے اس لئے اس معاملے میں بھی احتیاط کرنی چاہئے۔اعلیٰ اخلاق اس وقت قائم ہوں گے جب ہم بظاہر چھوٹی چھوٹی بات کو بھی چھوٹا نہیں سمجھیں گے۔بچوں کے ضمن میں یہ بھی بتلا دوں کہ بچے کھانا کھاتے کم ہیں اور ضائع زیادہ کر رہے ہوتے ہیں اس لئے ان کو ہمیشہ تھوڑی مقدار میں کھا نا ڈال کے دینا چاہئے۔اگر وہ ایک دفعہ ختم کر