خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 454 of 844

خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 454

خطبات مسرور جلد سوم 454 خطبہ جمعہ 29 جولائی 2005 ء کہ مہمان کا حق ادا کرنے کے لئے مہمان نوازی کا حق ادا کرنے کے لئے قرض لے کر بھی مہمان نوازی کرتے ہیں۔ہمارے معاشرے میں ، برادریوں میں یہ رواج ہے کہ جان بوجھ کر کسی پر مہمان نوازی کا بوجھ ڈال دو۔اور خاص طور پر غیر احمدی معاشرہ میں (احمدیوں میں تو نہیں ) جب کسی کی موت وغیرہ ہو تو اس پر بڑا بوجھ ڈالا جاتا ہے۔ایک تو اس بے چارے غریب آدمی کا کوئی عزیز رشتہ دار فوت ہو جاتا ہے اس پر مزید کھانے وغیرہ کا بڑا بوجھ ڈالا جاتا ہے۔صرف اس لئے کہ دیکھیں کس حد تک یہ مہمان نوازی کرتا ہے۔اسی طرح شادیوں پر کھانے کا ضیاع کیا جاتا ہے اور اگر کوئی نہ کرے تو پھر اس کو بدنام کیا جاتا ہے۔تو یہ انتہائی گھٹیا حرکتیں ہیں۔اللہ تعالیٰ کا فضل ہے کہ احمدی معاشرہ تقریباً اس سے محفوظ ہے۔کہتے ہیں کہ مہمان رحمت ہوتا ہے۔تو ایسے بوجھ ڈالنے والے کی وجہ سے وہ مہمان گھر والوں کے لئے رحمت کی بجائے زحمت بن جاتا ہے۔اس لئے باہر سے آنے والوں کو میں خاص طور پر کہہ رہا ہوں کہ یہ ذہن میں رکھنا چاہئے کہ وقت کی پابندی کی جائے خاص طور پر پاکستان سے آنے والوں کو جن کے عزیز رشتہ دار، واقف کار یہاں ہیں۔جن کے ہاں وہ مہمان ٹھہرے ہوئے ہیں کہ یہاں لوگوں نے کام پر بھی جانا ہوتا ہے اور ان کے لئے کام کرنا بھی ضروری ہے۔سوائے ان لوگوں کے جو نکھے اور گھر بیٹھنے والے ہوں۔اس لئے مہمان غیر ضروری تو قعات اپنے میزبانوں سے نہ رکھیں کہ وہ آپ کے لئے اپنے کام کا حرج کر کے آپ کو سیریں بھی کروائیں اور آپ کی دوسری خواہشات کو بھی پورا کریں۔اور آپ کی مرضی کے مطابق اپنے پروگرام رکھیں۔پس ہمیشہ اپنے میز بانوں کے لئے تکلیف کا باعث بنے سے احتراز کریں، پر ہیز کریں۔اور ان کے لئے رحمت کا باعث بنیں۔پھر آپ نے ہمیں یہ اخلاق بھی سکھائے کہ اگر تمہاری دعوت کی جائے تو صرف وہی جائے جس کی دعوت ہے اور اگر خصوصی حالات ہیں تو پھر گھر والے سے پوچھ کر زائد مہمان لے جا سکتے ہو۔کھانے کا انتظام محدود ہوتا ہے اور دوسرے انتظامات ہوتے ہیں۔اگر زائد مہمان ہو جائیں تو اس انتظام میں مہمانوں کی وجہ سے بعض دفعہ خلل پیدا ہو جاتا ہے۔حضرت ابو مسعودرضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص جسے ابوشعیب کہا جاتا تھا اپنے