خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 453
خطبات مسرور جلد سوم 453 خطبہ جمعہ 29 جولائی 2005ء ہو۔یہ کہنے والے کون ہو کہ میاں اتنے دن ہو گئے ہیں اب گھر جاؤ۔تم ہمیں نہیں روک سکتے۔تو بہر حال جیسا کہ حدیث میں ہے، اسی اصول کے تحت اور اسی حکم کے تحت عموماً مہمانوں کو تین دن کے بعد یہ کہا جاتا ہے کہ اگر اس سے زیادہ آپ کے یہاں ٹھہرنے کی کوئی جائز وجہ ہے مثلاً علاج وغیرہ ہے یا اور کوئی اس قسم کی کوئی دوسری ضرورت ہے تو پھر ایک انتظام ہے اس انتظام کے تحت اجازت لے لیں۔پھر بے شک ٹھہریں۔تو بہر حال مہمانوں کو خیال رکھنا چاہئے کہ اس طرح کا رویہ رکھیں جو میزبان کے لئے تکلیف کا باعث نہ ہو۔لیکن میزبان جو ہیں یا لنگر خانے والے جو ہیں یا مہمان نوازی کے شعبے جو ہیں ربوہ میں آجکل لنگر خانے کو دارالضیافت کہتے ہیں تو اس کی انتظامیہ کا یا کارکنوں کا یہ کام نہیں ہے کہ کسی بھی مہمان سے سخت رویہ اختیار کریں۔وہ اپنے بالا انتظام کو اطلاع کر کے اس سے ہدایت لے سکتے ہیں لیکن رویوں میں سختی نہیں آنی چاہئے جس سے مہمانوں کو تکلیف ہو۔ایک اور روایت میں آتا ہے آپ نے یہ ساری باتیں بیان فرما کر فرمایا کہ جو اللہ اور یوم آخرت پر ایمان لاتا ہے وہ اچھی بات کہے یا خاموش رہے۔“ (ترمذى - كتاب البر والصلة - باب ما جاء فى الضيافة وغاية الضيافة الى كم هى) اوپر کی حدیث کی یہ نصیحت بتاتی ہے کہ اگر مہمانوں کو احساس دلانا ہے تو اس کا اظہار اتنی سختی سے نہ ہو کہ مزید جھگڑے شروع ہو جائیں۔اور یہ نصیحت مہمانوں کے لئے بھی ہے کہ تم اپنے میزبان سے اچھے کلمات میں بات کرو۔اچھی بات ہی کہا کرو۔تو دونوں طرف کے لئے یہ نصیحت ہے کہ دونوں فریق ایک دوسرے سے اچھی بات کہیں۔پھر ایک ایسی ہی روایت میں جب صحابہ نے پوچھا کہ گھر والوں کو تکلیف میں ڈالنے سے کیا مراد ہے؟ تو آپ نے فرمایا تکلیف میں ڈالنا اس طرح ہے کہ گھر والے کے پاس کھلانے کو کچھ نہ ہو اور وہ (مہمان ) اس کے پاس ٹھہرا رہے۔(مسلم - كتاب اللقطة -باب الضيافة ونحوها) تو دیکھیں ایک حسین معاشرے کے قیام کے لئے کس گہرائی میں جا کر آ ہمیں نصائح فرمائی ہیں۔بعض گھر والے مہمان کی وجہ سے اس طرح بھی تکلیف میں پڑ جاتے ہیں