خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 452 of 844

خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 452

خطبات مسرور جلد سوم 452 خطبہ جمعہ 29 جولائی 2005ء اس حدیث کا پہلا حصہ میں نے میزبانوں سے متعلق جو گزشتہ خطبہ تھا اس میں بیان کیا تھا۔لیکن مہمانوں کے فرائض کا حصہ چھوڑ دیا تھا۔تو جہاں میز بانوں کو فرمایا کہ تم نے مہمان نوازی کرنی ہے اور ایک دن رات تو اچھی طرح کرنی ہے اور پھر عمومی مہمان نوازی ہے جو تین دن رات تک چلے گی۔اور فرمایا کہ اس سے زائد جو ہے وہ صدقہ ہے۔اب صدقہ بھی دیکھیں نیکیوں میں اضافے کا باعث بنتا ہے۔تو گھر والوں کا یا تمہاری نیکیوں میں اضافے کا باعث ہی بنے گا۔لیکن ہر ایک کے حالات ہوتے ہیں۔اور اس کے مطابق ضروری نہیں ہے، لازمی نہیں ہے کہ ہر کوئی اس قابل بھی ہو کہ صدقہ بھی دے سکے۔تو پھر اسی طرح نارمل زندگی گزرے گی جس طرح عام گھر میں لوگ گزار رہے ہوتے ہیں۔اور اگر مہمان زیادہ دیر رہتا ہے تو پھر گھر والے کی مرضی ہے کہ جس طرح عام روکھی سوکھی کھا کر گھر والے گزارہ کر رہے ہیں، مہمان بھی ان کے ساتھ اسی طرح گزارہ کرے۔بعض دفعہ یہ ہوتا ہے حالات ایسے نہیں ہوتے ، اس لئے گھر والوں نے کسی کھانے کا ناغہ بھی کر دیا، یا کوئی ہلکی پھلکی غذا کھالی تو پھر مہمان کو یہ شکوہ نہیں ہونا چاہئے کہ اسے اسی طرح کا کھانا ملے، اسی طرح کی غذا ملے بلکہ پھر جس طرح گھر والے گزارہ کر رہے ہیں اسی طرح وہ بھی گزارہ کرے۔اور مہمان کو صدقے کا لفظ استعمال کر کے یہ توجہ دلا دی کہ اگر اب زائد مہمان نوازی کروار ہے ہو تو صدقہ کھا رہے ہو۔ویسے تو اگر تمہیں یا کسی کو عام طور پر صدقے کی کوئی چیز دی جائے تو بڑا برا منائیں گے کہ انہیں صدقہ دیا جا رہا ہے۔لیکن یہ بھی ایک صدقے کی قسم ہے کہ زبر دستی کسی کے ہاں لمبا عرصہ مہمان بن کر رہا جائے۔اور اس طرح گھر والوں کے لئے تکلیف کا باعث بنا جائے۔ضمناً یہاں ربوہ کے لنگر خانہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے کا ذکر کر دیتا ہوں۔اس کا بڑا وسیع سلسلہ ہے۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے روزانہ پندرہ سو سے لے کر دو ہزار آدمی وہاں کھانا کھاتے ہیں۔کافی بڑی تعداد میں مہمان آ کر ٹھہرتے ہیں۔وہاں بھی بعض دفعہ دھونس جمانے والے مہمان آ جاتے ہیں، زبر دستی کرنے والے مہمان آ جاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا لنگر خانہ ہے ہم چاہے جتنا مرضی ٹھہریں تم ہمیں انکار کرنے والے کون ہوتے