خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 449
خطبات مسرور جلد سوم 449 خطبہ جمعہ 29 جولائی 2005ء پھر بعض دفعہ بعض مہمان بڑے مشکل ہوتے ہیں جیسا کہ میں نے اوپر ذکر کیا ہے کہ کھانا وقت پر نہ ملے، اچھا نہ ملے تو اعتراض کرنے لگ جاتے ہیں، شکوے شروع ہو جاتے ہیں۔تو ایسی باتوں سے بھی ایک احمدی کو بچنا چاہئے۔اس بارے میں ایک روایت میں آتا ہے۔حضرت ابو ہریرہ بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت علی اللہ نے فرمایا جب تم میں سے کسی کو کھانے کی دعوت دی جائے تو وہ اسے قبول کرے اور اگر روزہ سے ہے تو حمد وثنا اور دعا کرتا رہے اور معذرت کرے۔اور اگر روزے دار نہیں تو جو کچھ پیش کیا گیا خوشی سے کھائے۔(مسلم - کتاب النکاح – باب الامر باجابة الداعي الى دعوة) تو فرمایا کہ جو پیش کیا جائے اسے خوشی سے کھانا چاہئے۔اور یہ خوشی سے کھانا ہی ہے جو مہمان اور میزبان کے رشتے کو مزید مضبوط کرتا ہے۔اس میں پہلا سبق یہی ہے کہ اگر دعوت دی گئی ہے تو دعوت کو قبول کرو۔کیونکہ یہ بھی رشتوں میں تعلق اور مضبوطی کو قائم کرنے کا ذریعہ ہے۔اور پھر جیسا کہ میں نے کہا دوسری بات جو بیان فرمائی کہ بغیر اعتراض کے کھانا چاہئے ، خوشی سے کھانا چاہئے۔دعوت کرنے والے نے اخلاص سے اہتمام کیا ہوتا ہے۔اس کا اظہار کرنا چاہئے۔ایک مومن مہمان اپنے ساتھ برکتیں لے کر آتا ہے اس لئے ہمیشہ ایسا مہمان بننا چاہئے جو برکتیں لانے والا مہمان ہو اور کبھی ایسے مہمان نہ بنیں جو گھر والوں کے لئے پریشانی کا باعث ہوں۔بلکہ ان کو پریشانی سے نکالنے والے ہوں۔بعض دفعہ یہ بھی ہوتا ہے کہ کھانا گھر والے نے تھوڑا پکایا اور مہمان اچانک آگئے تو اس وقت مل جل کر کھانا چاہئے۔کوشش کرنی چاہئے کہ ایک تو احتیاط سے کھائیں اور کھانا ضائع نہ ہو۔دوسرے، دوسرے مہمانوں کا خیال رکھتے ہوئے اس طرح کھایا جائے کہ سب کو حصہ رسدی مل جائے۔حضرت ابو ہریرہ بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ دو آدمیوں کا کھانا تین کے لئے کافی ہے اور تین کا کھانا چار کے لئے کافی ہے۔ایک اور روایت میں ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایک آدمی کا کھانا دو کے لئے اور دو کا چار کے لئے اور چار کا آٹھ کے لئے کافی ہے۔(مسلم - كتاب الاشربة - باب فضيلة المواساة في الطعام۔۔۔