خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 450 of 844

خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 450

خطبات مسرور جلد سوم 450 خطبہ جمعہ 29 جولائی 2005 ء جلسہ کے دنوں میں بعض اوقات ایسے ہو جاتا ہے کہ کھانے میں وقتی طور پر کمی آجاتی ہے۔اس لئے ایک تو یہ کہ کھانا کھانے والوں کو ، مہمانوں کو اس وقت صبر سے کام لینا چاہئے۔ویسے تو اللہ تعالیٰ کا فضل ہے، عموماً جلسے کے دنوں میں اگر کھانے میں وقتی کمی آ جائے۔بعض دفعہ اگر سالن ہو بھی تو روٹی میں کمی آجاتی ہے تو وہ بہت تھوڑے وقت کے لئے ہوتی ہے اور اللہ تعالیٰ انتظام فرما دیتا ہے، جلدی اصلاح بھی ہو جاتی ہے۔گزشتہ سال مثلاً مشین میں چند گھنٹوں کے لئے خرابی ہوگئی جس کی وجہ سے پریشانی ہوئی لیکن کیونکہ متبادل انتظام تھا اور اس عرصے میں مشین بھی ٹھیک ہوگئی تو اتنا احساس نہیں ہوا۔تو جیسا کہ میں نے کہا اللہ تعالیٰ خود جلدی انتظام بھی فرما دیتا ہے۔ایک دفعہ ربوہ میں روٹی پکانے والوں نے ہڑتال کر دی یا پیٹڑے بنانے والوں نے کام سے انکار کر دیا۔روٹی کے پیڑے وہاں مشین سے نہیں بنتے۔ایک دفعہ عین موقعے پر بڑی دقت پیدا ہوگئی۔تو اللہ تعالیٰ نے ویسے تو جماعت کے افراد کو ہنگامی حالات سے نپٹنے کا بڑا ملکہ دیا ہوا ہے اور جب بھی کوئی ایسے حالات پیدا ہوں ہر وقت تیار رہتے ہیں۔حضرت خلیفہ اسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ نے اس وقت ایک تو یہ اعلان فرمایا کہ ہر شخص دوروٹیوں کی بجائے ( کیونکہ فی کس عموماً دو روٹیوں کا اندازہ رکھا جاتا ہے ) ایک کھائے۔اور پھر ربوہ کے گھروں کو کہا کہ تم روٹیاں بنا کر بھجواؤ۔تعداد تو اس وقت مجھے یاد نہیں بہر حال ہر گھر کے ذمہ معین مقدار لگائی گئی تھی آٹے کی یا روٹیوں کی۔تو گھروں سے مختلف سائزوں کی روٹیاں آنی شروع ہو گئیں جو تقسیم کے لئے لنگر خانوں میں آجاتی تھیں، وہاں سے تقسیم ہو جاتی تھیں۔گو اس کے بعد فوری طور پر حالات ٹھیک بھی ہو گئے۔لیکن اس ارشاد کی وجہ سے جو حضرت خلیفۃ المسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا تھا ان دنوں میں میرا خیال یہی ہے کہ تقریباً سارا جلسہ ہی لوگوں نے ایک روٹی پر گزارا کیا اور یوں اپنی خوراک نصف کر لی اور دو کے کام آ گئی۔تو یہ جو آنحضرت علی یا اللہ نے بظاہر چھوٹے چھوٹے ارشادات فرمائے ہیں ان کی بھی بڑی اہمیت ہوتی ہے اور جب موقع آئے تب پتہ لگتا ہے کہ ان کی کیا اہمیت ہے۔اور ان پر عمل کرنے والے بھی آج اللہ تعالیٰ کے فضل سے احمدی ہی ہیں۔اسی