خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 439 of 844

خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 439

خطبات مسرور جلد سوم 439 خطبہ جمعہ 22 جولائی 2005 ء کھانے کا وقت آئے تو ان کو تھپتھپا کر ، بہلا کر سلا دو۔چنانچہ عورت نے کھانا تیار کیا۔چراغ جلایا اور بچوں کو بھوکا سلا دیا۔روتے روتے سو گئے۔پھر چراغ درست کرنے کے بہانے اٹھی اور جا کر چراغ بجھا دیا اور پھر دونوں مہمانوں کے ساتھ بیٹھے بظاہر کھانا کھانے کی آوازیں نکالتے اور چٹخارے لیتے رہے تا کہ مہمان سمجھے کہ میزبان بھی میرے ساتھ بیٹھے کھانا کھا رہے ہیں۔اس طرح مہمان نے پیٹ بھر کر کھانا کھایا اور وہ بھوکے سورہے۔صبح جب وہ انصاری حضور کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ نے ہنس کر فرمایا کہ تمہاری رات کی تدبیر سے تو اللہ تعالیٰ بھی ہنسا۔یعنی وہ آیت نازل ہوئی کہ پاک باطن اور ایثار پیشہ مخلص اور مومن اپنی ذات پر دوسروں کو ترجیح دیتے ہیں۔تو دیکھیں کہ کس قدر خوبصورت معیار ہیں مہمان نوازی کے جو صحابہ نے قائم کئے۔(بخاری ، کتاب المناقب باب يؤثرون على انفسهم ولوكان بهم خصاصة) پھر اس زمانے میں ہم دیکھتے ہیں۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ پر چل کر حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام نے خود بھی کس طرح مہمان نوازی کے معیار قائم کئے اور اس ضمن میں جماعت کو نصیحت بھی فرمائی۔اس کی کچھ جھلکیاں میں دکھاتا ہوں۔حضور نے ایک جماعت کو خطاب کر کے فرمایا: ” میرے اصول کے موافق اگر کوئی مہمان آوے اور سب وشتم تک بھی نوبت پہنچ جاوے تو اس کو گوارا کرنا چاہئے ( یعنی سخت الفاظ بھی استعمال کرے) کیونکہ وہ مریدوں میں تو داخل نہیں ہے ( اگر غیر آتا ہے تو ) ہمارا کیا حق ہے کہ اس سے وہ ادب اور ارادت چاہیں جو مریدوں سے چاہتے ہیں۔یہ بھی ہم ان کا احسان سمجھتے ہیں کہ نرمی سے بات کریں۔پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ زیارت کرنے والے کا تیرے پر حق ہے۔میں سمجھتا ہوں کہ مہمان کو اگر ذرا سا بھی رنج ہو تو وہ معصیت میں داخل ہے“۔(ملفوظات جلد 3 صفحه 79-80 جدید ایڈیشن - الحکم /21 فروری 1903ء صفحه 3 تا 5) یعنی اگر مہمان کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو گناہ ہے۔کیونکہ ایسے لوگ جو ابھی احمدیت میں داخل نہیں ہوئے ، ایک تو وہ احمدی نہیں، اس لحاظ سے بھی نرمی سے پیش آنا چاہئے۔ویسے بھی