خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 440 of 844

خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 440

خطبات مسرور جلد سوم 440 خطبہ جمعہ 22 جولائی 2005 ء مہمان ہیں اس لحاظ سے بھی نرمی سے پیش آنا چاہئے۔احمدیوں کو بعض اصولوں کا پتہ ہوتا ہے۔اس لحاظ سے یہ نہیں کہ اگر احمدی ہے تو ضرور سختی سے پیش آیا جائے۔مہمان احمدی بھی ہے لیکن بعض اصول و قواعد جماعت کے ہیں، جماعت کی روایات ہیں۔ایک غیر کو تو پتہ نہیں ، ایک احمدی کو پتہ ہوتا ہے۔تو اس لحاظ سے آپ نے فرمایا کہ مہمان ہونے کی حیثیت سے بھی اور غیر ہونے کی حیثیت سے بھی اس کا تم زیادہ احترام کرو۔پھر ایک اور روایت ملتی ہے کہ : ”اعلیٰ حضرت حجة اللہ مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام مہمان نوازی کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرح اعلیٰ اور زندہ نمونہ ہیں۔جن لوگوں کو کثرت سے آپ کی صحبت میں رہنے کا اتفاق ہوا وہ خوب جانتے ہیں کہ کسی مہمان کو ( خواہ وہ سلسلہ میں داخل ہو یا نہ داخل ہو ) ذراسی بھی تکلیف حضور کو بے چین کر دیتی ہے۔مخلصین احباب کے لئے تو اور بھی آپ کی روح میں جوش اور شفقت ہوتا ہے۔اس امر کے اظہار کے لئے ہم ذیل کا ایک واقعہ درج کر دیتے ہیں۔وہ واقعہ یہ ہے کہ کہتے ہیں کہ ”میاں ہدایت اللہ صاحب احمدی شاعر لاہور پنجاب جو کہ حضرت اقدس کے ایک عاشق صادق ہیں اپنی اس پیرانہ سالی میں بھی چند دنوں سے گورداسپور آئے ہوئے تھے۔آج انہوں نے رخصت چاہی جس پر حضرت اقدس نے فرمایا کہ: آپ جا کر کیا کریں گے ، یہاں ہی رہیے، اکٹھے چلیں گے۔آپ کا یہاں رہنا باعث برکت ہے۔اگر کوئی تکلیف ہو تو بتلا دو اس کا انتظام کر دیا جاوے گا۔پھر اس کے بعد آپ نے عام طور پر جماعت کو مخاطب کر کے فرمایا کہ : " چونکہ آدمی بہت ہوتے ہیں اور ممکن ہے کہ کسی کی ضرورت کا علم ( اہل عملہ کو ) نہ ہو۔اس لئے ہر ایک کو چاہئے کہ جس شے کی اسے ضرورت ہو وہ بلا تکلف کہہ دے۔اگر کوئی جان بوجھ کر چھپاتا ہے تو وہ گناہگار ہے۔ہماری جماعت کا اصول ہی بے تکلفی ہے۔بعد ازیں حضرت اقدس نے میاں ہدایت اللہ صاحب کو خصوصیت سے سید سرورشاہ صاحب کے سپر دکیا کہ ان کی ہر ضرورت کو وہ بہم پہنچاویں۔“۔(ملفوظات جلد 4 صفحه 79-80 جدید ایڈیشن - الحکم /31 جولائی۔10 / اگست 1904 صفحه 14)