خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 434 of 844

خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 434

خطبات مسرور جلد سوم 434 خطبہ جمعہ 22 جولائی 2005 ء آپ نے بعض مہمان مستقل اپنے ہاں لمبے عرصے کیلئے ٹھہرائے اور ان کے لئے مستقل خوراک کا انتظام فرمایا۔حالانکہ اس وقت حالت ایسی تھی کہ خود بھی گھر میں شاید اتنا اچھا انتظام نہیں ہوتا تھا۔اور نہ صرف انتظام فرمایا بلکہ کھانے کا انتظام ہی ان کے سپر د کر دیا کہ اپنا پیٹ بھرنے کے بعد میرے لئے بھی رکھ دیا کرو۔اس کا ذکر یوں ملتا ہے، حضرت مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ میں اور میرے دو ساتھی جن کی محنت و مشقت اور خوراک کی کمی کی وجہ سے قوت سماعت اور بصارت یعنی دیکھنے اور سنے کی جو طاقت تھی متاثر ہو گئی تھیں ، نظر اور آنکھوں پر اثر پڑا تھا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ پاس آئے۔مگر ان میں سے کسی نے ہماری طرف توجہ ہی نہ دی۔پھر ہم حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ ہمیں اپنے گھر والوں کے پاس لے گئے۔وہاں پر تین بکریاں تھیں۔آپ نے فرمایا ان کا دودھ دوہا کرو اور ہم میں سے ہر ایک اپنا اپنا حصہ پی لیتا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف آپ کا حصہ لے جاتے۔یعنی جو کھانے کا انتظام تھا وہ ان لوگوں کے سپرد کر دیا۔تم پی لیا کرو اور مجھے میرا حصہ دے دیا کرو۔کہتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم رات کے وقت تشریف لاتے اور سلام کرتے تو آواز اتنی اونچی نہ ہوتی کہ سویا ہوا بیدار ہو جائے۔جو جاگ رہا ہوتا وہ سن لیتا۔پھر آپ مسجد میں تشریف لے جاتے اور نماز ادا فرماتے۔پھر آپ کے پاس پینے کے لئے دودھ لایا جاتا جو آپ پی لیتے۔ایک دن وہ کہتے ہیں کہ بھوک کی وجہ سے میں سارا دودھ پی گیا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جب تشریف لائے تو دودھ نہیں تھا لیکن آپ کی برکت کی وجہ سے بکری جو دودھ دینے والی تھی اس کو دوبارہ دودھ اتر آیا۔پھر انہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کیا تو آپ نے فرمایا نہیں پہلے خود پی لو۔آپ کو بتایا نہیں تھا کہ ہم سارا پی چکے ہیں۔تو بہر حال پہلے انہیں پلا کے پھر آپ نے تھوڑ اسا پیا اور بقایا پھر مہمانوں کو دے دیا۔(ترمذی - كتاب الاستئذان والادب۔باب کیف السَّلام ) پھر ایک اور روایت میں اسی مستقل مہمان نوازی کا ذکر یوں ملتا ہے۔مالک بن ابی عامر