خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 431
خطبات مسرور جلد سوم 431 خطبہ جمعہ 22 جولائی 2005 ء نے کھجوریں کھانی شروع کر دی ہیں۔( تو بے تکلف ماحول تھا ) حضرت صہیب نے اس پر جواب دیا کہ یا رسول اللہ ! میں اس آنکھ کی طرف سے کھا رہا ہوں جو درست ہے۔(مسند احمد بن حنبل جلد 4 صفحه 61-62 مطبوعه بيروت) دیکھیں کتنا سادہ اور بے تکلف ماحول ہے۔بعض دفعہ ایسے موقعے بھی آئے کہ آپ کھانا تناول فرمارہے ہیں اور کوئی آ گیا تو اس کو بھی ساتھ شامل ہونے کی دعوت دی ، چاہے کھانا جتنی مرضی تھوڑی مقدار میں ہو۔ایک روایت میں آتا ہے کہ ایک صحابی کسی کام سے نماز کے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہی آپ کی رہائش کی طرف دروازے تک آپ کے ساتھ آگئے۔تو آپ اندر گئے اور تھوڑی دیر بعد تھوڑا سا کھانا لے کے آئے اور فرمایا کہ آؤ کھا ئیں۔لیکن کھانا اتنی کم مقدار میں تھا کہ وہ کہتے ہیں کہ میں ہچکچاتا رہا۔بہر حال آنحضور نے فرمایا تم لگتا ہے کسی کام سے آئے ہو۔تو جو بھی کام تھا وہ پوچھا اور واپس چلے گئے۔لیکن آپ دیکھیں کہ جو ساتھ آ گیا اس کو مہمان سمجھا اور گھر کے اندر اس کو لے آئے اور فرمایا کہ آؤ کھانا کھائیں۔پھر جب کبھی کافی تعداد میں مہمان آجایا کرتے تھے تو آپ مہمانوں کو صحابہ میں تقسیم کر دیا کرتے تھے اور صرف انہی میں نہیں کرتے تھے بلکہ اپنے ساتھ بھی اس طرح تقسیم کر کے لے جاتے تھے۔ایک ایسے ہی موقع کا روایات میں یوں ذکر آتا ہے۔عبداللہ بن طُهْفَه بیان کرتے ہیں کہ جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کثرت سے مہمان آتے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے کہ ہر کوئی اپنا مہمان لیتا جائے۔ایک رات آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بہت زیادہ مہمان آگئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہر کوئی اپنے حصہ کا مہمان ساتھ لے جائے۔عبداللہ بن طفه رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں ان میں تھا جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ گئے تھے۔چنانچہ جب آپ گھر پہنچے تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا: کیا گھر میں کھانے کو کچھ ہے؟ انہوں نے عرض کی جی ہاں کویہ نامی کھانا ہے جو میں نے آپ کے افطار کے لئے تیار کیا ہے۔تو راوی کہتے ہیں کہ وہ کھانا ایک برتن میں ڈال کر لائیں (تھوڑا سا ہوگا ) اس میں