خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 430
خطبات مسرور جلد سوم 430 خطبہ جمعہ 22 جولائی 2005 ء ہوئے گھر تشریف لائے اور حضرت خدیجہ سے اس گھبراہٹ کا ذکر کیا تو دیکھیں کیسا جواب تھا۔روایت میں آتا ہے آپ نے عرض کیا کہ اللہ کی قسم ! جیسے آپ سوچ رہے ہیں ویسے ہر گز نہیں ہو گا۔اللہ تعالیٰ آپ کو کبھی بھی رسوا نہ کرے گا۔اللہ کی قسم آپ صلہ رحمی کرتے ہیں، سچی بات کرتے ہیں ، دوسروں کے بوجھ اٹھاتے ہیں، ناپید نیکیاں بجالاتے ہیں ، لوگوں کی مہمان نوازی کرتے ہیں اور آفات سماوی کے نازل ہونے پر لوگوں کی مدد کرتے ہیں۔(بخارى - كتاب التفسير - سورة اقرأ باسم ربك۔۔۔۔۔۔حدیث نمبر 4953) یعنی جو اعلیٰ اخلاق دنیا سے غائب ہو گئے ہیں ان کو آپ قائم کرتے ہیں جن میں سے ایک مہمان نوازی بھی ہے۔اور اللہ تعالیٰ کو یہی خلق تو پسند ہیں۔تو یہ کس طرح ہوسکتا ہے کہ ایسے اخلاق والے انسان کو خدا تعالیٰ ضائع کر دے۔اور جیسا کہ میں نے کہا کہ مختلف قسم کی نیکیوں میں سے ایک نیکی مہمان نوازی بھی ہے جو بندے کو اللہ تعالیٰ کا قرب دلانے اور اس کی رضا حاصل کرنے کا باعث بنتی ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مختلف مواقع پر مہمان نوازی کے تعلق میں جو نمونے قائم فرمائے اور اپنے عمل سے جو اعلیٰ مثالیں ہمارے سامنے پیش فرما ئیں اب میں ان میں سے چند ا یک پیش کرتا ہوں۔اور پھر یہ کہ اپنی امت کو بھی نصیحت فرمائی کہ کس طرح مہمان نوازی کرو۔آپ کے پاس گھر میں بھی اگر کوئی مہمان آتا تو جو بھی میسر ہوتا مہمان کو پیش فرماتے۔بعض دفعہ گھر میں آپ کھانا تناول فرما رہے ہوتے اگر کوئی آتا تو بڑی بے تکلفی سے آنے والے کو اپنے ساتھ شامل کرتے۔ایک روایت میں آتا ہے۔عبدالحمید بن صیفی اپنے والد اور اپنے دادا کے واسطے سے روایت کرتے ہیں کہ صہیب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے۔اس وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کھجور اور روٹی پڑی ہوئی تھی۔آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے صہیب سے کہا کہ قریب آ جاؤ اور کھاؤ۔راوی کہتے ہیں کہ صہیب کھجوریں کھانے لگے۔اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا آپ کی آنکھ دیکھنے آئی ہوئی ہے (اس وقت ان کی ایک آنکھ دیکھ رہی تھی ) اس کے باوجود تم