خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 426 of 844

خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 426

خطبات مسرور جلد سوم کریں گے۔426 خطبہ جمعہ 15 جولائی 2005ء (مسلم - كتاب الجهاد - باب الوفاء بالعهد) دیکھیں یہ تھا آپ کا عمل۔آدمیوں کی سخت ضرورت ہے۔ایک ایک آدمی کی اہمیت ہے جنگ کی حالت میں کوئی بھی ایسی باتوں کو اہمیت نہیں دیتا۔لیکن آپ نے فرمایا عہد کو نبھانا ضروری ہے۔اللہ خود ہمارا مددگار ہوگا۔اور پھر دیکھیں اللہ نے بھی کس طرح مدد فرمائی۔پھر ایک اور واقعہ دیکھیں اس سے پتہ چلتا ہے کہ کس باریکی سے آپ عہدوں کی پابندی فرمایا کرتے تھے۔حسن بن علی بن ابی رافع بیان کرتے ہیں کہ ابو رافع رضی اللہ عنہ نے انہیں بتایا کہ قریش نے مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھیجا۔جب میں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا تو میرے دل میں اسلام کی محبت گھر کر گئی۔اس پر میں نے کہا: یا رسول اللہ ! بخدا میں ان قریش کے ہاں واپس نہیں جاؤں گا۔اس پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں بدعہدی نہیں کیا کرتا اور نہ سفیروں کو قید کرتا ہوں۔البتہ تم واپس جاؤ اور اگر تمہاری وہ کیفیت جو اس وقت ہے برقرار رہے ( یہ بھی پتہ لگ جائے گا کہ وقتی جوش تو نہیں ہے) تو واپس آ جانا۔ابورافع کہتے ہیں کہ میں واپس گیا اور پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ گیا اور اسلام قبول کر لیا۔(ابوداؤد - كتاب الجهاد۔باب فى الامام يستجن به في العهود) تو ہر نئے مسلمان ہونے والے کو آپ نے پہلے دن سے ہی یہ سبق دیا کہ ایک تو امانت میں خیانت نہیں کرنی ، اس کا پہلے ذکر آ چکا ہے۔دوسرے یہ کہ عہد کی پابندی کرنی ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے امین ہونے کی شان کی جو تعریف حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمائی ہے اصل تو وہ شان ہے، اور یہ مثالیں اس کی چند معمولی جھلکیاں ہیں۔آپ فرماتے ہیں۔امانت سے مراد انسان کامل کے وہ تمام قومی اور عقل اور علم اور دل اور جان اور حواس اور خوف اور محبت اور عزت اور وجاہت اور جمیع نعماء روحانی و جسمانی ہیں ( یعنی تمام روحانی اور جسمانی نعمتیں ہیں ) جو خدا تعالیٰ انسان کامل کو عطا کرتا ہے۔اور پھر انسان کامل بر طبق آیت ان اللّهَ يَأْمُرُكُمْ أَن تُؤدُّوا الا منتِ إِلَى أَهْلِهَا ﴾ (النساء :59) (یعنی اس آیت کے مطابق