خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 411 of 844

خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 411

خطبات مسرور جلد سوم 411 خطبہ جمعہ 8 جولائی 2005ء پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اللہ کی راہ میں خرچ کرنا ہے تو اپنی پسندیدہ چیزیں، اپنی محبوب چیز میں خرچ کروں تبھی پتہ چلے گا کہ واقعی تم اللہ تعالیٰ کی رضا کے لئے خرچ کر رہے ہو کہ نہیں۔ورنہ تو یہ تمہارے دعوے ہوں گے کہ ہم نیکیوں کی طرف قدم بڑھانے والے ہیں۔جیسا کہ فرماتا ہے لَن تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّى تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ ﴾ آل عمران: 93) یعنی تم کامل نیکی کو ہر گز نہیں پا سکتے جب تک اپنی پسندیدہ اشیاء میں سے خدا کے لئے خرچ نہ کرو۔تو یہاں اس حکم میں بھی جماعت نے ہمیشہ بڑھ چڑھ کر عمل کرنے کی کوشش کی ہے۔اور اس حکم کے مطابق خرچ کرنے کے نمونے جہاں ہمیں جماعت احمدیہ کی تاریخ میں اور دوسرے ملکوں میں ملتے ہیں وہاں یو۔کے بھی کسی سے کم نہیں ہے۔مردوں اور عورتوں نے بڑھ چڑھ کر یہ نمونے قائم کئے ہیں۔خاص طور پر میں عورتوں کا ذکر کروں گا۔ان کی پسندیدہ چیز زیور ہوتی ہے جس کو وہ بڑے شوق سے بناتی ہیں اور ان کے لئے سب سے پسندیدہ مال یہی ہے۔لیکن احمدی عورت جس کو اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنی مقصود ہے اس نے ہمیشہ اپنی اس پسندیدہ چیز کو جماعتی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے پیش کیا۔اور احمدیت کی تاریخ میں ابتداء سے لے کے آج تک کرتی چلی آ رہی ہیں۔اور۔U۔K کی عورتوں نے بھی یہ نظارے ہمیں دکھائے ہیں۔ایسی عورتیں بھی ہیں جنہوں نے ہر تحریک پر اپنا کوئی نہ کوئی زیور نکال کر پیش کر دیا۔یہاں تک کہ اپنے آخری زیور چوڑیاں یا بالیاں جو بھی تھیں وہ بھی دے دیں، خالی ہاتھ ہو گئیں۔بعض ان کے پاس بزرگوں کی نشانیاں تھیں وہ بھی پیش کر دیں۔پھر اگر خاوند نے یا ان کے ماں باپ نے اور زیور بنا کر دیئے تو وہ بھی لا کر پیش کر دیئے۔کئی ایسی آئی ہیں میرے پاس کہ یہ بھی آپ کسی تحریک میں شامل کر لیں۔تو یہ مثالیں احمدی عورت میں ہی ہمیں نظر آتی ہیں۔کینیڈا میں لجنہ کی سیکرٹری مال بڑے جذباتی انداز میں کہنے لگیں کہ یہاں کی عورتوں کے لئے دعا کریں کہ اس طرح مختلف تحریکات میں انہوں نے بڑھ چڑھ کر اپنے زیور پیش کئے ہیں کہ حیرانی ہوتی ہے کہ کس طرح قرآن کے حکم کے مطابق اپنی پسندیدہ چیز کو پیش کر رہی ہیں۔تو میں نے ان کو یہی کہا تھا کہ یہی تو ایک احمدی عورت کی خوبصورتی ہے، یہی تو اس کا حسن ہے کہ اپنے