خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 404
خطبات مسرور جلد سوم 404 خطبہ جمعہ 8 جولائی 2005ء کروا دیتا ہے۔لیکن جیسا کہ میں نے کہا مشرقی افریقہ کے رہنے والے احمدیوں کے وسائل عموماً اتنے نہیں ہیں۔لیکن کینیا میں مثلاً ایشین احمدی یا پاکستانی، ہندوستانی Origin کے احمدی اللہ تعالیٰ کے فضل سے کافی ہیں اور اللہ تعالیٰ ان کو توفیق دے رہا ہے اور وہ مساجد کی تعمیر میں حصہ لے رہے ہیں۔بلکہ بعض مساجد جن کی میں نے بنیاد میں رکھی ہیں ان کی تعمیر کا مکمل خرچ ان میں سے ایک ایک آدمی نے یا ان کی ایک فیملی نے برداشت کیا ہے۔اسی طرح یوگنڈا میں بعض احمد یوں کے حالات کچھ نسبتا بہتر ہیں تو وہاں بھی افریقن احمدی اللہ تعالیٰ کے فضل سے مالی قربانیوں میں بڑھ کے حصہ لے رہے ہیں۔ایک افریقن احمدی نے ایک بڑی اچھی مسجد بنوانے کا وعدہ کیا ہے بلکہ شروع بھی کروادی ہے۔اس کی بنیاد میں نے رکھی تھی۔اللہ تعالیٰ ان سب قربانی کرنے والوں کو جزا دے ، ان کی تو فیقوں کو بڑھائے اور ان کے ایمان اور اخلاص میں ان کو ترقی دیتا چلا جائے۔پھر اس کے بعد میں نے کینیڈا کا دورہ کیا ہے، کل ہی وہاں سے واپس آیا ہوں۔یہاں بھی اللہ تعالیٰ کے فضل سے جماعت ایمان اور اخلاص میں بڑھ رہی ہے۔مالی قربانیوں کے لئے بھی ایک جوش ہے۔اللہ تعالیٰ ان کی مالی قربانیوں کو قبول فرمائے اور ان کے اخلاص کو بھی بڑھاتا چلا جائے اور ہر فر د جماعت کو تقویٰ کی راہوں پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔کینیڈا میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے تین مساجد کے سنگ بنیاد رکھے گئے۔پہلا سنگ بنیاد و نیکوور (Vancouver) میں رکھا گیا۔یہ سمندر کے کنارے، پہاڑوں میں گھرا ہوا ایک خوبصورت شہر ہے۔دریا کے کنارے جماعت نے چند سال قبل ایک رقبہ خریدا تھا جس میں ایک عمارت بنی ہوئی تھی اور اس میں ایک چھوٹا سا ہال بھی تھا جس میں آجکل نمازیں ادا ہوتی ہیں۔یہاں با قاعدہ مسجد کا سنگ بنیا درکھا گیا ہے۔اس مسجد کا نام بیت الرحمن رکھا گیا ہے۔اس مسجد کا خرچ برداشت کرنے کا وعدہ بھی ایک مخلص احمدی دوست نے کیا ہے۔اللہ تعالیٰ ان کو توفیق دے اور ان کے اموال ونفوس میں برکت عطا فرمائے۔اس مسجد کا خرچ تقریباً ساڑھے تین چار ملین ہے، یعنی پینتیس، چالیس لاکھ ڈالرز۔اور وہ اکیلے آدمی نے برداشت کرنے کا وعدہ کیا ہے۔اللہ تعالیٰ ان کو جلد سے جلد تکمیل