خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 403
خطبات مسرور جلد سوم 403 خطبہ جمعہ 8 جولائی 2005ء بیہودہ اور ظالمانہ فعلوں سے اپنے آپ کو بچالیا ہے۔اور جب بھی کہیں ظلم کا کھیل کھیلا گیا ہے، جماعت احمدیہ نے ہمیشہ اس سے بیزاری ، نفرت اور کراہت کا اظہار کیا ہے۔کیونکہ اسلام تو انسانیت کی اقدار قائم کرنے کے لئے آیا تھا ، نہ کہ معصوموں کی جانیں لینے کے لئے۔اللہ تعالیٰ رحم کرے اور دنیا کو اس ظلم سے بچائے۔بہر حال ہر احمدی کا یہ فرض بنتا ہے کہ اپنے اندر تبدیلیوں کے ساتھ اسلام کی خوبصورت تعلیم سے دنیا کو بھی آگاہ کرے، دنیا کو بھی بتائے۔اللہ تعالیٰ ہر جگہ، ہر ملک میں ،جس کی طرف سے بھی ایسے ظالمانہ فعل ہو رہے ہوں ان کی خود پکڑ فرمائے اور ہمیں ہمیشہ سیدھے راستے پر چلائے رکھے۔تو ذکر میں کر رہا تھا دوروں کے بارے میں۔ساتھ ہی یہ بات آگئی کہ اس تعلیم کو دنیا میں پھیلا نا چاہئے ، یہ تعلیم ہے۔تو اس ضمن میں جو مختلف جگہوں پر دوروں کے دوران بعض جماعت نے نئے کام شروع کئے اور جو قربانیاں، خاص طور پر مالی قربانیاں دیں، ان کے بارے میں اب اس وقت میں ذکر کروں گا۔اپنے دوروں کے دوران احمدیوں میں تبدیلیوں کی اور ان قربانیوں کی جو جماعت کے افراد نے اپنے وسائل کے لحاظ سے کیسں اور کر رہے ہیں۔میں مساجد کا ذکر کرنا چاہتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے گزشتہ چند سالوں میں، دنیا کی مختلف جماعتوں میں مساجد کی تعمیر کی طرف یا بڑی عمارت خرید کر ان کو مسجدوں میں تبدیل کرنے یا نماز سینٹر قائم کرنے اور خرید کر قائم کرنے کی طرف رجحان کافی بڑھا ہے۔چنانچہ اُس دورے کے دوران بھی پہلے جو افریقہ کا دورہ ہوا مختلف افریقہ کے ممالک میں چار مساجد کا سنگ بنیا درکھا اور چھ نئی مساجد کا افتتاح ہوا۔افریقہ میں تو بہت غربت ہے، تھوڑا بہت اپنے وسائل سے لوگ اپنی مسجدوں کی تعمیر میں حصہ ڈالتے ہیں۔بہر حال اپنے لحاظ سے جس قدر قربانی اور اخلاص کا وہ اظہار کر سکتے ہیں کرتے ہیں۔اُن ملکوں میں زیادہ تر مرکزی طور پر یا یہ بھی ہوا ہے کہ بعض دوسرے ملکوں کے مخیر حضرات نے مسجدوں کی تعمیر میں حصہ لیا ہے، اور لے رہے ہیں۔۔U۔K کے بھی بعض افراد ان میں شامل ہیں۔مشرقی افریقہ میں عموماً احمدی اتنے خوشحال نہیں ہیں جیسے مغربی افریقہ میں ہیں۔وہاں تو ایک ایک احمدی خود بھی بڑی بڑی مساجد تعمیر