خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 402
خطبات مسرور جلد سوم 402 خطبہ جمعہ 8 جولائی 2005ء ہیں۔افریقہ میں بھی اور کینیڈا میں بھی۔اکثر ملنے والوں نے زبانی اور بہت سے لوگوں نے خطوط کے ذریعے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ وہ اپنے اندر روحانی تبدیلیاں پیدا کرنے کی کوشش کریں گے۔اللہ تعالیٰ ان کو توفیق دے بلکہ دنیا میں ہر جگہ، ہر احمدی کو توفیق دے کہ ہم اپنے اندر پاک تبدیلیاں پیدا کر کے، خدا سے زندہ تعلق جوڑ کر ، اُس مقصد کو حاصل کرنے والے ہو جائیں جس کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام مبعوث ہوئے تھے۔کیونکہ اب دنیا میں خدا کی طرف لانے کے لئے ، دنیا میں امن قائم رکھنے کے لئے ، یہ انتہائی ضروری ہے کہ اسلام کی وہ خوبصورت تعلیم جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ہمیں دی ہے اور وہ خوبصورت تصویر جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ہمیں دکھائی ہے، اس کو نہ صرف اپنے پر لاگو کریں، اپنی زندگیوں کا حصہ بنائیں، بلکہ دنیا کو بھی اس سے روشناس کرائیں۔ان کو بھی بتائیں کہ دیکھو چند ایک سر پھرے، اللہ تعالیٰ کے خوف سے بے بہرہ لوگ جو بظاہر اپنے آپ کو اسلام کی طرف منسوب کرتے ہیں لیکن اسلام کی اس صحیح اور خوبصورت تعلیم سے اُن کا دور کا بھی واسطہ نہیں ہے۔جو بظاہر اپنے آپ کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب کرتے ہیں لیکن اس محسن انسانیت اور رحمۃ للعالمین سے اُن کا دور کا بھی تعلق نہیں ہے۔کیونکہ وہ تو حسن و احسان کا پیکر تھا، وہ تو مظلوموں اور معصوموں بلکہ دشمنوں تک، بلکہ اللہ تعالیٰ کی ہر مخلوق کے لئے رحمت تھا۔اس پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا تو ان چیزوں سے کوئی بھی تعلق نہیں تھا جو آج کے سر پھرے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب ہو کر کرتے ہیں۔اب یہاں کل ہی لندن میں جو مختلف ٹرینوں میں اور بسوں میں واقعہ ہوا ہے، جو ظلم اور بر بریت کی ایک مثال قائم کی گئی ہے، کیا یہ اسلام کی تعلیم کے مطابق ہے؟ میں نہیں سمجھتا کہ کوئی آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت رکھنے والا شخص ایسی حرکت کر سکتا ہے۔بہر حال یہ جس تنظیم یا جس گروہ نے بھی کیا اگر یہ مسلمان کہلانے والا گروہ ہے تو اس نے اسلام اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے نام کو بدنام کرنے کی کوشش کی ہے۔ہم احمدی خوش قسمت ہیں کہ ہم نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو مان کر ان