خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 380 of 844

خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 380

خطبات مسرور جلد سوم کارروائی کرنی پڑے۔380 خطبہ جمعہ 24 / جون 2005ء مرد کو اللہ تعالیٰ نے قوام بنایا ہے، اس میں برداشت کا مادہ زیادہ ہوتا ہے۔اس کے اعصاب زیادہ مضبوط ہوتے ہیں۔اگر چھوٹی موٹی غلطیاں، کوتاہیاں ہو بھی جاتی ہیں تو ان کو معاف کرنا چاہئے۔ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی مجلس میں ایک صحابی کی اپنی بیوی سے سختی کی باتوں کا ذکر ہورہا تھا۔جو صحابہ پاس بیٹھے ہوئے تھے وہ کہتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کو اس بات پر اس قدر رنج اور غصہ تھا کہ ہم نے کبھی ایسی حالت میں آپ کو نہیں دیکھا۔ایک اور صحابی اس مجلس میں بیٹھے تھے جو اپنی بیوی سے اسی طرح سختی سے پیش آیا کرتے تھے، ان کے حقوق کا خیال نہیں رکھتے تھے۔وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی یہ حالت دیکھ کر اس مجلس سے اٹھے، بازار گئے ، بیوی کے لئے کچھ تحفے تحائف لئے اور گھر جا کر اپنی بیوی کے سامنے رکھے اور بڑے پیار سے اس سے باتیں کرنے لگے۔بیوی حیران پریشان تھی کہ آج ان کو ہو کیا گیا ہے۔یہ کا یا کس طرح پلٹ گئی ، اس طرح نرمی سے باتیں کر رہے ہیں۔آخر ہمت کر کے پوچھ ہی لیا، پہلے تو جرات نہیں پڑتی تھی۔کہنے لگے آج حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو بیویوں پر سختی کرنے کی وجہ سے بہت غصے کی حالت میں دیکھا ہے۔اس سے پہلے کہ میری شکایت ہوئیں اپنی حالت بدلتا ہوں۔تو دیکھیں جس طرح حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ نمونہ بنیں۔اس صحابی نے فورا توبہ کی اور نمونہ بنے کی کوشش کی۔آج آپ میں سے اکثریت بھی جو یہاں بیٹھی ہوئی ہے یا کم از کم کافی تعداد میں یہاں لوگ ایسے ہیں جو ان صحابہ کی اولاد میں سے ہیں جنہوں نے بیعت کے بعد نمونہ بنے کی کوشش کی اور بنے۔آپ بھی اگر اخلاص کا تعلق رکھتے ہیں اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی جماعت میں داخل ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں تو یہ نیکیاں اختیار کریں۔آج عہد کریں کہ ہم نے نیکی کے نمونے قائم کرنے ہیں۔اپنی بیویوں کے قصور معاف کرنے ہیں۔جولڑکی والے ہیں زیادتی کرنے والے ، وہ عہد کریں کہ لڑکوں کے قصور معاف کرنے ہیں۔تو ان