خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 371
خطبات مسرور جلد سوم 371 خطبہ جمعہ 24 / جون 2005ء کیا ہم نے آپس میں محبت اور بھائی چارے کے وہ معیار قائم کر لئے ہیں جن کی توقع ہم سے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے کی ہے؟ کیا ہم نے اپنے اندر عاجزی کے اعلیٰ معیار قائم کر لئے ہیں؟ کیا ہمارے اندر وہ روح پیدا ہو چکی ہے جب ہم کہہ سکیں کہ ہم اپنی ضرورتوں کو اپنے بھائی کی ضرورتوں پر قربان کر سکتے ہیں؟ کیا ہمارے اندر اتنی عاجزی اور انکساری پیدا ہو گئی ہے کہ ہم اپنے آپ کو سب سے کم تر سمجھیں اور جہاں خدمت کا موقع ملے اس سے کبھی گریز نہ کریں؟ کیا ہم نے سچائی کے وہ معیار حاصل کر لئے ہیں جب ہم کہ سکیں کہ اگر ہمیں اپنے عزیزوں کے خلاف یا اپنے خلاف بھی گواہی دینی پڑی تو دیں گے اور سچ کے قائم رکھنے کے لئے ہمیشہ کوشش کرتے رہیں گے؟ کیا ہم دینی ضروریات کے لئے ہر وقت تیار ہیں؟ یا صرف دین کو دنیا پر مقدم رکھنے کا نعرہ ہی ہے جو ہم لگا رہے ہیں۔اور سب سے بڑھ کر یہ کہ کیا ہم اللہ تعالیٰ کی وحدانیت قائم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں؟ کیا کہیں یہ تو نہیں کہ دعویٰ تو ہم یہ کر رہے ہوں کہ یہ کس طرح ہو سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا میں کسی کو دوست بناؤں اور چھوٹے چھوٹے بت میں نے اپنے دل میں بسائے ہوں، پانچ وقت نمازوں میں سنتی دکھائی جا رہی ہو۔اور یہ ستی اکثر میں نے دیکھا ہے، دکھائی جاتی ہے۔میں نے بعض دفعہ ملاقاتوں میں جائزہ لیا ہے کہ نمازوں کی طرف با قاعدگی سے متعلق اگر پوچھو کہ توجہ ہے کہ نہیں تو اکثر یہ جواب ہوتا ہے کہ کوشش کرتے ہیں یا پھر کوئی گول مول سا جواب دے دیتے ہیں۔حالانکہ نمازوں کے بارے میں تو خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ نماز کو قائم کرو۔باجماعت ادا کرو۔اور نماز کو وقت مقررہ پر ادا کرو۔جیسا کہ فرمایا وان الصَّلوةَ كَانَتْ عَلَى الْمُؤْمِنِيْنَ كِتَبًا وقُوْتًا﴾ (النساء: 104) یقیناً نماز مومنوں پر وقت مقررہ کی پابندی کے ساتھ فرض ہے۔اس بارے میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ: میں طبعا اور فطرتا اس کو پسند کرتا ہوں کہ نماز اپنے وقت پر ادا کی جاوے اور نماز مَوْقُوتَہ کے مسئلہ کو بہت ہی عزیز رکھتا ہوں“۔(الحكم جلد نمبر 6 نمبر 42 مورخه 24 نومبر 1902ء صفحه 1 کالم (2)