خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 370
خطبات مسرور جلد سوم 370 خطبہ جمعہ 24 / جون 2005ء ایک ایسی تبدیلی اپنے اندر حاصل کر لیں کہ ان کے دل آخرت کی طرف بکلی جھک جائیں۔اور ان کے اندر خدا تعالیٰ کا خوف پیدا ہو۔اور وہ زہد اور تقویٰ اور خدا ترسی اور پر ہیز گاری اور نرم دلی اور باہم محبت اور مواخات میں دوسروں کے لئے نمونہ بن جائیں۔اور انکسار اور تواضع 1 راستبازی ان میں پیدا ہو۔اور دینی مہمات کے لئے سرگرمی اختیار کریں۔(شہادت القرآن روحانی خزائن جلد 6صفحه394) تو یہ ہیں وہ مقاصد جن کے حاصل کرنے کے لئے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ہمیں آواز دی ہے۔آخرت کی طرف انسان تبھی جھک سکتا ہے جب دل میں خدا کا خوف اس طرح ہو کہ اس کو تمام طاقتوں کا سر چشمہ سمجھتے ہوں اور جب یہ خیال یقین میں بدل جائے گا کہ وہ خدا ایک ہے، مجھے پیدا کرنے والا بھی ہے، مجھے پالنے والا بھی ہے، مجھے دینے والا بھی ہے ، میرے کام میں یا میرے کاروبار میں برکت بھی اسی کے فضل سے پڑنی ہے۔اگر اس کی عبادت کرنے والا رہا، اگر اس کے آگے جھکنے والا رہا، تو اس کی نعمتوں سے حصہ پاتا رہوں گا۔اگر میرے اندر نیکیوں پر قائم رہنے کی رُوح رہی تو میں اس کے فضلوں کا وارث بنتا رہوں گا۔اگر اس کی مکمل اطاعت کرتے ہوئے ، تقویٰ پر چلتے ہوئے ، اس کے حقوق بھی ادا کرتارہا اور اس کی مخلوق کے حقوق بھی ادا کر تا رہا تو اس کے انعاموں سے حصہ پانے والا ہوں گا۔اگر یہ سوچ رہی تو پھر اللہ تعالیٰ اپنے وعدوں کے مطابق ضرور اپنے انعاموں سے نوازتا رہے گا۔لیکن یہ تقویٰ اور خدا تعالیٰ کی وحدانیت قائم کرنے کے معیار اُس وقت قائم ہوتے ہیں جب اُس کے تمام حکموں پر عمل ہو رہا ہو۔اور یہ اللہ تعالیٰ کے خاص فضل سے ہی ہوسکتا ہے۔اور پھر وہی بات کہ اُس وقت ہوتا ہے جب ذہن میں ہر وقت ، ہر لمحہ، خدا، خدا اور خدا ر ہے۔جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا ہے خدا ترسی بھی رہے گی، پرہیز گاری بھی رہے گی، اللہ کی مخلوق کے لئے نرم جذبات بھی رہیں گے، آپس میں محبت بھی رہے گی۔اور جب یہ چیزیں پیدا ہوں گی تو تب ہی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی خواہش کے مطابق ایک نمونہ بن سکیں گے۔ہم میں سے ہر ایک کو اپنا جائزہ لینا چاہئے کہ کیا یہ نمونے ہم اپنے اندر قائم کر رہے ہیں یا قائم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں؟