خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 364 of 844

خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 364

خطبات مسرور جلد سوم 364 خطبہ جمعہ 17 / جون 2005ء کے مطابق حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی جماعت میں عبادت کرنے والے مخلوق کے حق ادا کرنے والے اور تقویٰ پر قائم رہنے والے اور خلافت سے تعلق اور محبت رکھنے والے، اور اس کے لئے قربانی دینے والے پیدا کرتا رہے گا جو ان چیزوں سے چھٹے رہیں گے اور کبھی وقت کے امام کو اکیلا نہیں چھوڑیں گے۔اگر کوئی بد قسمت ایمان کی حالت کے بعد جہالت کی حالت کی طرف لوٹ جاتا ہے تو وہ اپنی بدقسمتی کو آواز دے رہا ہوگا۔پس میں پھر آپ سے یہ کہتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے جو یہ آپ پر فضل فرمائے ہیں ان کا اظہار نیک اعمال کی صورت میں کریں۔بعض دفعہ آسودگیاں برائیوں کی طرف لے جاتی ہیں۔ان سے بچیں اور تقویٰ پر قائم ہوں۔ان کے اظہار اپنی عبادتوں کے معیار بلند کرنے کی صورت میں کریں۔اللہ تعالیٰ کے بندوں کے حقوق ادا کرنے کی صورت میں کریں۔اپنی گزشتہ حالت پر بھی نظر رکھیں اور اپنے موجودہ حالات کو بھی دیکھیں۔بہت سے ایسے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے ان ملکوں میں لا کر مالی لحاظ سے پہلی حالت سے سینکڑوں گنا بڑھا دیا ہے، بہتر حالت میں کر دیا ہے۔یہ اپنے جائزے آپ کو اللہ تعالیٰ کے قریب کرنے اور اس کا شکر ادا کرنے والے بنائیں گے۔جب آپ اپنا اس نظر سے جائزہ لے رہے ہوں گے اور جب آپ شکر کریں گے، تقویٰ پر قدم مارنے والے ہوں گے تو پھر اللہ تعالیٰ اپنے وعدوں کے مطابق اپنے فضلوں کی بارش کو مزید بڑھاتا چلا جائے گا۔جیسا کہ وہ خود فرماتا ہے۔لَئِن شَكَرْتُمْ لَا زِيْدَنَّكُمْ ﴾ کہ اے لوگو! اگر تم شکر گزار بنے تو تمہیں اور بھی زیادہ دوں گا۔پس جب تقویٰ پر چلتے ہوئے آپ اس شکر گزاری کے مضمون کو بھی ذہن میں رکھیں گے اور یہ شکر گزاری کے اظہار آپ اللہ تعالیٰ کے حقوق ادا کرتے ہوئے بھی کر رہے ہوں گے اور بندوں کے حقوق ادا کرتے ہوئے بھی کر رہے ہوں گے،مسجد کی تعمیر میں اور دوسری مالی قربانیوں میں جب اللہ تعالیٰ کے اپنے پر فضلوں کا اظہار کر رہے ہوں گے اس کے حضور جھکتے ہوئے یہ عرض کرتے ہوئے اپنی قربانیاں پیش کر رہے ہوں گے کہ اے خدا! تو ہی ہے جس کے آگے ہم جھکتے ہیں اور تو ہی ہے جس نے ہمیں اپنی پہلی حالت سے بہتر حالت میں کر دیا ہے۔جو قربانیاں ہم پیش کرتے ہیں تیرے فضلوں کے مقابلے میں بہت حقیر ہیں۔تو اللہ