خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 358
خطبات مسرور جلد سوم 358 خطبہ جمعہ 17 / جون 2005ء محمود بن لبید روایت کرتے ہیں کہ حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے اپنے دور خلافت میں مسجد نبوی کی تعمیر نو اور توسیع کا ارادہ فرمایا تو کچھ لوگوں نے اسے نا پسند کیا۔وہ یہ چاہتے تھے کہ اس مسجد کو اس کی اصل حالت میں ہی رہنے دیا جائے۔یہ سن کر آپ (حضرت) عثمان) نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ مَن بَنَى مَسْجِدًا لِلَّهِ بَنَى اللَّهُ لَهُ فِي الْجَنَّةِ مِثْلَهُ - کہ جس نے اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لئے مسجد بنائی، اللہ تعالیٰ اس کے لئے جنت میں ویسا ہی گھر بنائے گا۔(مسلم - كتاب المساجد - باب فضل بناء المساجد والحث عليها ) پس ہر احمدی کو یہ مقصد سامنے رکھنا چاہئے۔جب مسجد کی بنیاد میں اٹھائی جا رہی ہوں تو یہ ذہن میں ہو کہ اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنی ہے۔جب یہ نیت ہوگی تو یہ نیت تقویٰ پر قائم دل کی ہی ہو سکتی ہے۔اس کے لئے جب آپ مالی قربانی کر رہے ہوں گے تو آپ کے دل اللہ کے خوف سے بھرے ہوں گے اور مسجد کی تعمیر میں حصہ اس لئے نہیں لے رہے ہوں گے کہ فلاں نے اتنا چندہ دے دیا ہے تو میں بھی اتنا دوں۔یہ مقابلہ اس لئے نہیں ہورہا ہوگا کہ دوسرے کو نیچا دکھانا ہے۔ہاں اگر مقابلہ کرنا ہے تو اس نیت سے ہو گا کہ نیکیوں میں سبقت لے جانی ہے، نیکیوں میں ایک دوسرے سے آگے بڑھنا ہے۔نیکیوں میں آگے بڑھنے کے وہ نمونے قائم کرنے ہیں جو پہلوں نے کئے تھے تا کہ اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے والے ہوں ، نہ کہ اس لئے کہ منفی مقابلہ ہو۔تو یہ منفی مقابلے تو تقویٰ پر بنیاد نہیں ہو سکتے۔اس لئے جب خدائے واحد کا گھر بنانا ہے تو تقویٰ پر بنیاد رکھنی ہے، قربانیاں کرنی ہیں ، تقویٰ پر قائم ہو کر کرتی ہیں۔اللہ تعالیٰ کا بڑا اشکر اور احسان ہے کہ اس نے جماعت کو ایسے دل دیئے ہوئے ہیں جو تقویٰ پر قائم ہیں اور اس روح کے ساتھ مالی قربانی کرنے والے ہیں کہ خدا کی رضا حاصل کرنی ہے۔کئی لوگ ملاقاتوں کے درمیان رو رو کر دعا کے لئے کہتے ہیں کہ ہمارا مسجد کے لئے اتنا وعدہ ہے، اللہ تعالیٰ جلد ادا کرنے کی توفیق دے۔بلکہ یہ لوگ اظہار کرتے ہیں کہ جو جماعت نے ہم سے توقع کی ہے ہمیں اس سے زیادہ بڑھ کر ادا کرنے کی توفیق دے۔تو یہ لوگ جو روتے ہوئے اپنے وعدے پورے کرنے کی فکر کا اظہار کر رہے