خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 348 of 844

خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 348

خطبات مسرور جلد سوم 348 خطبہ جمعہ 10 / جون 2005ء ایک حدیث میں آتا ہے، حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو ہماری اس مسجد میں اس نیت سے داخل ہوگا کہ بھلائی کی بات سیکھے یا بھلائی کی بات جانے وہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں جہاد کرنے والے کی طرح ہوگا۔اور جو مسجد میں کسی اور نیت سے آئے تو وہ اس شخص کی طرح ہوگا جو کسی ایسی چیز کو دیکھتا ہے جو اس کو حاصل نہیں ہوسکتی۔“ (مسند احمد بن حنبل جلد 2 صفحه 350۔مطبوعه بيروت ) اس کا مسجد میں آنا بے فائدہ ہے۔کیونکہ مومنوں کی مساجد منافقین کے لئے فتنہ پیدا کرنے والوں کے لئے نہیں ہوتیں۔اللہ کرے کہ ہم میں سے ہر ایک مسجد میں اس نیت سے داخل ہونے والا ہو کہ ایک خدا کی عبادت کرنی ہے اور بھلائی سیکھنی ہے اور پھر اس سیکھی ہوئی بھلائی کی بات پر خود بھی عمل کرنا ہے اور آگے بھی پھیلانا ہے۔ہماری نیتیں اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنا ہوں تا کہ ان لوگوں میں شامل ہوں جو جہاد کا ثواب لینے والے ہیں۔چھوٹی چھوٹی باتیں اور رنجشیں بھلائی اور خیر سے محروم کرنے والی نہ ہوں۔ہمارا مسجدوں میں آنا ہمارے ماحول کے لئے خیر و برکات کا باعث ہو۔نہ کہ دکھ اور تکلیف کا۔پس جب اس نیت سے ہر کوئی کوشش کر رہا ہوگا تو یہ کوششیں اللہ تعالیٰ کے نزدیک یقیناً مقبول ہوں گی۔اور جہاں یہ آپ لوگوں کو اللہ تعالیٰ کے فضلوں کا وارث بنائیں گی وہاں یہ ماحول میں محبتیں بھی بکھیر رہی ہوں گی۔جماعت احمدیہ کی مساجد تو بہر حال بھلائی پھیلانے والی اور خیر پھیلانے والی ہیں۔اس لئے ہر ایک کو یہاں آنا بھی اسی نیت سے چاہئے۔اگر کوئی فتنہ وفساد کی نیت سے آئے گا تو اس کو کامیابی نہیں ہو سکتی۔لیکن ہر احمدی کو اس لحاظ سے بھی اپنے ماحول کا جائزہ لیتے رہنا چاہئے کہ کبھی کوئی شر جماعت کے اندر یا مساجد میں کامیاب نہ ہو۔ہر احمدی کو بھلائی اور خیر کی تعلیم کوہی ہمیشہ پیش نظر رکھنا چاہئے کیونکہ یہی چیز ہے جس نے اسلام کی صحیح تعلیم کو دنیا میں پھیلانے کا کردار ادا کرنا ہے، بھولے بھٹکوں کو راستہ دکھانا ہے۔یہ تعلیم پھیلانے میں مساجد ایک بہت بڑا کردار ادا کرتی ہیں۔ہمیں اپنے عمل سے ثابت کرنا ہوگا کہ ہماری مساجد امن کا نشان ہیں، اللہ تعالیٰ کی مخلوق کو اللہ تعالیٰ کے قریب لانے کی ضامن ہیں۔