خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 349
خطبات مسرور جلد سوم 349 خطبہ جمعہ 10 / جون 2005ء حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ :۔اس وقت ہماری جماعت کو مساجد کی بڑی ضرورت ہے۔یہ خانہ خدا ہوتا ہے۔جس گاؤں یا شہر میں ہماری جماعت کی مسجد قائم ہوگی تو سمجھو کہ جماعت کی ترقی کی بنیاد پڑ گئی۔اگر کوئی ایسا گاؤں ہو یا شہر، جہاں مسلمان کم ہوں یا نہ ہوں اور وہاں اسلام کی ترقی کرنی ہو تو ایک مسجد بنا دینی چاہئے پھر خدا خود مسلمانوں کو کھینچ لاوے گا۔لیکن شرط یہ ہے کہ قیام مسجد میں نیت بہ اخلاص ہو محض لِلہ اسے کیا جاوے۔نفسانی اغراض یا کسی شر کو ہر گز دخل نہ ہو تب خدا برکت دے گا“۔(ملفوظات جلد چہارم صفحه 93 جدید ایڈیشن - البدر مورخه 24 اگست 1904) تو جماعت کی ترقی تبھی ہوگی جب دنیا کو یہ باور کرا دیں گے کہ مساجد خدا تعالیٰ کی مخلوق کو اس کے در پر جھکانے کا ذریعہ ہیں نہ کہ فساد کا۔اللہ کرے یہ مسجد جو آپ یہاں تعمیر کرنے والے ہیں یہ اس کا صحیح حق ادا کرنے والی ہو۔آپ لوگ اپنی ذمہ واریاں سمجھنے والے ہوں اور یہ مسجد اس علاقے میں جماعت کی ترقی کا پیش خیمہ ثابت ہو، لوگوں کو کھینچنے کا باعث بنے۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ :۔مسجدوں کی اصل زینت عمارتوں کے ساتھ نہیں ہے۔بلکہ ان نمازیوں کے ساتھ ہے جو اخلاص کے ساتھ نماز پڑھتے ہیں۔ورنہ یہ سب مساجد ویران پڑی ہوئی ہیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مسجد چھوٹی سی تھی۔کھجور کی چھڑیوں سے اس کی چھت بنائی گئی تھی۔اور بارش کے وقت چھت میں سے پانی ٹپکتا تھا۔مسجد کی رونق نمازیوں کے ساتھ ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت میں دنیا داروں نے ایک مسجد بنوائی تھی۔وہ خدا تعالیٰ کے حکم سے گرادی گئی۔اس مسجد کا نام مسجد ضرار تھا۔یعنی ضرر رساں۔اس مسجد کی زمین خاک کے ساتھ ملا دی گئی تھی۔مسجدوں کے واسطے حکم ہے کہ تقویٰ کے واسطے بنائی جائیں“۔(ملفوظات جلد چہارم صفحه 491 جدید ایڈیشن - بدر صفحه 1 تا 3 مورخه 31/ اکتوبر 1905ء) اللہ کرے کہ ہماری اس مسجد کی بنیاد بھی تقویٰ پر ہو۔اور ہم اپنی کمزوریوں کو دور کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کے حضور استغفار کرتے ہوئے اس سے مدد مانگتے ہوئے اس کی تعمیر کریں۔اس