خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 346 of 844

خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 346

خطبات مسرور جلد سوم 346 خطبہ جمعہ 10 / جون 2005ء چاہتے ہیں۔ہم اس زمانے کے ابراہیم کو مان کر ہر قسم کے شرک سے بے زاری کا اظہار کرنے کا نعرہ لگاتے ہیں۔لیکن مثلاً نمازوں کے اوقات ہیں۔چھوٹے چھوٹے بُت اور خدا، نوکری کے، کاروبار کے ہستیوں کے ہم نے بنائے ہوئے ہیں ان کے پنجے سے نکلنا نہیں چاہتے۔یا اس طرح نکلنے کی کوشش نہیں کرتے جس طرح کوشش کرنی چاہئے۔صرف منہ سے یہ کہہ دینا کہ اے اللہ ہمیں مقام ابراہیم پر فائز کر دے، کوئی فائدہ نہیں دے گا جب تک کہ وہ محبت اپنے دل میں پیدا نہ کریں جوابراہیم علیہ السلام کو اپنے خدا سے تھی۔جب تک ہم اپنے آپ کو مکمل طور پر خدا تعالیٰ کے احکامات کے سپرد نہ کر دیں۔جب تک ہم اپنے تمام معاملات خدا پر نہ چھوڑ دیں اور عبادتوں کے اعلیٰ معیار قائم کرنے کے ساتھ ساتھ جھوٹی اناؤں کو نہ چھوڑ دیں۔جب تک ہم اپنے خاندانوں اور برادری کی بڑائی کے تکبر سے باہر نہ نکلیں۔جب تک ہم اس چکر میں رہیں گے کہ میں سید ہوں یا مغل ہوں یا پٹھان ہوں یا جاٹ ہوں یا آرائیں ہوں ، ان لفظوں سے جب تک باہر نہیں نکلیں گے جب تک ہم اپنے معیار اللہ تعالیٰ کے حکموں کے مطابق تقوی کو نہ بنالیں کوئی فائدہ نہیں۔تو جب ہم یہ ساری چیزیں کرلیں گے تب ہم کہہ سکتے ہیں کہ ہم مقام ابراہیم پر قدم رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔تب ہم کہہ سکتے ہیں کہ اس مقام پر قدم رکھتے ہوئے اپنے تمام معاملات خدا تعالیٰ کے سپرد کرتے ہیں۔تب ہم کہہ سکتے ہیں کہ ہم اللہ تعالیٰ کی رضا پر راضی ہیں۔تب ہم کہہ سکتے ہیں کہ ہم وفاداروں میں ہیں۔اور اس زمانے کے ابراہیم سے جو عہد بیعت ہم نے باندھا ہے اس کو پورا کرنے والے ہیں۔پس جب ہم یہ معیار حاصل کر لیں گے یا حاصل کرنے کی کوشش کریں گے تو تب ہی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے پیاروں میں شامل سمجھے جائیں گے۔اگر نہیں تو پھر ہم حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے درخت وجود کی سرسبز شاخیں نہیں سمجھے جاسکتے بلکہ ایک سوکھی ٹہنی کی طرح جس کو کوئی بھی باغبان برداشت نہیں کرتا ، کاٹ کر پھینک دیئے جائیں گے کیونکہ ہم اس مقام کی پیروی نہیں کر رہے، اس مقام پر کھڑے نہیں ہو رہے جس مقام پر کھڑے ہونے کا امت محمدیہ کو حکم دیا گیا ہے۔پس اس زمانے کے ابراہیم کو مان کر جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا عاشق صادق اور غلام صادق بھی ہے ہمیں اپنے اندر پاک