خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 336
خطبات مسرور جلد سوم 336 خطبہ جمعہ 3 / جون 2005ء 5000 مربع میٹر سے اوپر جگہ بن جائے گی جو انشاء اللہ تقریباً ایک ایکڑ سے زیادہ جگہ ہے۔اللہ کرے کہ یہ سودا بھی جلد ہو جائے تاکہ وہاں مسجد کی تعمیر جلدی شروع کی جا سکے۔تو جیسا کہ میں نے کہا جن لوگوں نے اس تحریک میں وعدہ کیا ہے ان سے درخواست ہے کہ اپنے وعدے پورے کریں۔لیکن یاد رکھیں کہ لازمی چندہ جات یعنی چندہ عام وغیرہ کو پیچھے رکھ کر یہ ادا ئیگی نہیں کرنی۔پہلے بہر حال لازمی چندہ جات ضروری ہیں۔اور انہوں نے ہی وعدے کئے ہیں جن کو توفیق تھی۔مجھے امید ہے وہ آسانی سے ادا کر سکتے ہیں۔اسی کے ساتھ آج میں جرمنی والوں کو بھی توجہ دلا دوں۔ان کی 100 مساجد کی رفتار بھی بڑی سُست ہے۔ان کو بھی چاہئے کہ اپنے کام میں تیزی پیدا کریں۔دنیا میں بڑی تیزی سے مسجد میں بن رہی ہیں۔تیسرے میں آج ایک تحریک کرنا چاہتا ہوں خاص طور پر جماعت کے ڈاکٹر ز کو اور دوسرے احباب بھی عموماً، اگر شامل ہونا چاہیں تو حسب توفیق شامل ہو سکتے ہیں، جن کو تو فیق ہو، گنجائش ہو۔یہ ظاہر ہارٹ انسٹیٹیوٹ کے لئے مالی قربانی کی تحریک ہے۔حضرت خلیفتہ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ کی ربوہ میں خلافت رابعہ کے شروع میں یہ خواہش تھی کہ یہاں ایک ایسا ادارہ ہو جو اس علاقے میں دل کی بیماریوں کے علاج کے لئے سہولت میسر کر سکے۔اس دور میں کچھ بات چلی بھی تھی لیکن پھر اس پر عملدرآمد نہ ہو سکا۔بہر حال میرا خیال ہے کہ آخری دنوں میں حضور کی اس طرف دوبارہ توجہ ہوئی تھی لیکن خلافت خامسہ کے شروع میں اس پر کام شروع ہوا۔ایک ہمارے احمدی بھائی ہیں انہوں نے اپنے والدین کی طرف سے خرچ اٹھانے کی حامی بھری۔پھر امریکہ کے ایک احمدی ڈاکٹر بھی اس میں شامل ہوئے۔انہوں نے خواہش کی کہ میں بھی شامل ہونا چاہتا ہوں۔بہر حال نقشے وغیرہ بنائے گئے اور بڑی خوبصورت ایک چھ منزلہ عمارت تعمیر کی جا رہی ہے جو اپنی تعمیر کے آخری مراحل میں ہے اور اس فیلڈ کے ڈاکٹر ماہرین کے مشوروں سے یہ سارا کام ہوا ہے۔وہ اس میں شامل ہیں۔خاص طور پر ڈاکٹر نوری صاحب سے مشورہ لیا گیا ہے۔ایک ہارٹ انسٹیٹیوٹ کے لئے کیسی کیسی چیزوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ڈاکٹر صاحب مرکزی کمیٹی