خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 334 of 844

خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 334

خطبات مسرور جلد سوم 334 خطبہ جمعہ 3 / جون 2005ء آتی ہے۔بعض ان میں سے اپنے آپ کو بڑے خاندانی بھی سمجھ رہے ہوتے ہیں۔تو ایسے لڑکے اور ایسے خاندان اپنی اصلاح کریں اور خدا کا خوف کریں ورنہ بہتر ہے کہ ایسے گھٹیا لوگ جماعت سے قطع تعلق کر لیں اور جماعت کی بدنامی کا باعث نہ بنیں۔اب میں پھر پہلی بات کی طرف آتا ہوں۔غریب بچیوں کی شادیوں کے لئے جیسا کہ میں نے کہا کہ اندازہ نہیں ہے۔اب مہنگائی کی وجہ سے اخراجات بھی بہت بڑھ رہے ہیں اس لئے توجہ دینی چاہئے۔جو لوگ باہر کے ملکوں میں ہیں اپنے بچوں کی شادیوں پر بے شمار خرچ کرتے ہیں۔اگر ساتھ ہی پاکستان ، ہندوستان یا دوسرے غریب ممالک میں غریب بچوں کی شادیوں کے لئے کوئی رقم مخصوص کر دیا کریں تو جہاں وہ ایک گھر کی خوشیوں کا سامان کر رہے ہوں گے وہاں یہ ایک ایسا صدقہ جاریہ ہو گا جو ان کے بچوں کی خوشیوں کی بھی ضمانت ہوگا۔اللہ تعالیٰ نیکیوں کو ضائع نہیں کرتا۔پھر بعض صاحب حیثیت لوگوں میں بے تحا شا نمود و نمائش اور خرچ کرنے کا شوق ہوتا ہے۔شادیوں پر بے شمار خرچ کر رہے ہوتے ہیں۔کئی کئی قسم کے کھانے پک رہے ہوتے ہیں جو اکثر ضائع ہو جاتے ہیں۔یہاں سے جب خاص طور پر پاکستان میں جا کر شادیاں کرتے ہیں اگر سادگی سے شادی کریں اور بچت سے کسی غریب کی شادی کے لئے رقم دیں تو وہ اللہ کی رضا حاصل کر رہے ہوں گے۔کھانوں کے علاوہ شادی کارڈوں پر بھی بے انتہا خرچ کیا جاتا ہے۔دعوت نامہ تو پاکستان میں ایک روپے میں بھی چھپ جاتا ہے۔یہاں بھی بالکل معمولی سا پانچ سات پینس (Pens) میں چھپ جاتا ہے۔تو دعوت نامہ ہی بھیجنا ہے کوئی نمائش تو نہیں کرنی۔لیکن بلا وجہ مہنگے مہنگے کارڈ چھپوائے جاتے ہیں۔پوچھو تو کہتے ہیں کہ بڑا ستا چھپا ہے۔صرف پچاس روپے میں۔اب یہ صرف پچاس روپے جو ہیں اگر کارڈ پانچ سو کی تعداد میں چھپوائے گئے ہیں تو یہ پاکستان میں پچیس ہزار روپے بنتے ہیں اور پچیس ہزار روپے اگر کسی غریب کو شادی کے موقع پر ملیں تو وہ خوشی اور شکرانے کے جذبات سے مغلوب ہو جاتا ہے۔تو اس طرح بے شمار جگہیں ہیں جہاں بچت کی جاسکتی ہے۔اور جن کو اتنی توفیق ہے کہ وہ کہیں کہ ہم بچیوں کی شادیوں میں بھی مدد کر سکتے ہیں