خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 332 of 844

خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 332

خطبات مسرور جلد سوم 332 خطبہ جمعہ 3 / جون 2005ء ہو چکی ہے یعنی 1/16 کے لحاظ سے۔تو ہر احمدی کو اس کے مطابق چندہ دینا چاہئے اور چندہ دیتا ہے۔لیکن اگر مالی حالات اجازت نہ دیں تو اسی اجازت کے ماتحت جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام نے فرمائی ہے چھوٹ مل سکتی ہے۔لیکن ہمیشہ ہر احمدی کو یہ پیش نظر رکھنا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ ان کی تو فیقوں کو جانتا ہے۔اس لئے تقویٰ پر چلتے ہوئے اگر وہ سمجھتے ہیں کہ ان کو اپنے چندوں میں کمی کرنی چاہئے تو بے شک کریں لیکن اس کے لئے جماعت میں طریق ہے کہ خلیفہ وقت سے اجازت لے لیں کہ میرے حالات ایسے ہیں جس کی وجہ سے میں پوری شرح سے چندہ نہیں دے سکتا، ادا ئیگی نہیں کرسکتا۔لیکن اپنے آپ کو مکمل طور پر مالی قربانی سے فارغ نہ کریں۔اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں بے شمار جگہ اس طرف توجہ دلائی ہے اور ابتدا میں ہی (سورۃ بقرہ میں ) متقیوں کی نشانی یہ بتائی ہے کہ نماز پڑھنے والے، عبادتیں کرنے والے اور اللہ کی راہ میں خرچ کرنے والے ہیں جو متقی ہیں۔پس جب آپ استحکام خلافت اور استحکام جماعت کے لئے دعا مانگتے ہیں اور تقویٰ پر قائم رہنے کے لئے دعائیں مانگتے ہیں تو ان حکموں پر عمل بھی کرنا ہو گا جو اللہ تعالیٰ نے ہمیں ان دعاؤں کا وارث بننے کے لئے دیئے ہیں۔پس ہر احمدی فکر سے اپنے بقایا جات صاف کرنے کی کوشش کرے۔یہ جو چھ مہینے تک بقایا دار کی شرط ہے جماعت کا یہ قاعدہ ہے کہ یہ نہ ہو۔تو یہ ان لوگوں کے لئے ہے جو زمینداره کرتے ہیں، زمیندار ہیں جن کی فصلوں کی آمد چھ مہینے کے بعد ہوتی ہے۔یا جو ایسے کاروباری ہیں جن کو کسی وقفے کے بعد یا کچھ عرصے کے بعد منافع ملتا ہے۔ملازم پیشہ اور تاجر پیشہ جولوگ ہیں جن کی ماہوار آمد ہے ان کو تو فکر کے ساتھ ہر ماہ چندوں کی ادائیگی کرنی چاہئے اور جماعت میں ہزاروں ایسے ہیں جو اس فکر کے ساتھ ادائیگی کرتے ہیں اور پھر اللہ تعالیٰ کے فضلوں اور اپنے پیسوں میں برکت کے بیشمار نظارے دیکھتے ہیں۔یہ جو حدیث بیان کی جاتی ہے کہ ایک زمیندار کو اللہ تعالیٰ اس طرح نوازتا تھا کہ اس کو جب پانی کی ضرورت ہوتی تھی تو بادل کو حکم ہوتا تھا کہ فلاں جگہ برس اور اس کی ضرورت پوری کر۔تو اس زمیندار کی یہی خوبی تھی کہ اپنی آمد میں سے وہ ایک حصہ علیحدہ کر کے اللہ تعالیٰ کی راہ میں دینے کے لئے رکھ لیتا تھا۔تو کیا یہ قصہ روایتوں میں اس لئے