خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 331 of 844

خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 331

خطبات مسرور جلد سوم 331 خطبہ جمعہ 3 / جون 2005ء ماہوار چندوں کی ادائیگی کے سلسلے میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ: ” سواے اسلام کے ذی مقتدرت لوگو دیکھو! میں یہ پیغام آپ لوگوں تک پہنچا دیتا ہوں کہ آپ لوگوں کو اس اصلاحی کارخانہ کی جو خدا تعالیٰ کی طرف سے نکلا ہے اپنے سارے دل اور ساری توجہ اور سارے اخلاص سے مدد کرنی چاہئے اور اس کے سارے پہلوؤں کو بنظر عزت دیکھ کر بہت جلد حق خدمت ادا کرنا چاہئے۔جو شخص اپنی حیثیت کے موافق کچھ ماہواری دینا چاہتا ہے وہ اس کو حق واجب اور دین لازم کی طرح سمجھ کر خود بخود ما ہوا ر اپنی فکر سے ادا کرے اور اس فریضہ کو خالصتاً للہ نذر مقرر کر کے اس کے ادا میں تخلف یا سہل انگاری کو روانہ رکھے۔اور جو شخص یک مشت امداد کے طور پر دینا چاہتا ہے وہ اسی طرح ادا کرے۔لیکن یادر ہے کہ اصل مدعا جس پر اس سلسلہ کے بلا انقطاع چلنے کی امید ہے وہ یہی انتظام ہے کہ بچے خیر خواہ دین کے اپنی بضاعت اور اپنی بساط کے لحاظ سے ایسی سہل رقمیں ماہواری کے طور پر ادا کرنا اپنے نفس پر ایک حتمی وعدہ ٹھہرالیں جن کو بشرط نہ پیش آنے کسی اتفاقی مانع کے بآسانی ادا کر سکیں۔یعنی سوائے اس کے کہ کوئی مجبوری ہو جائے عام طور پر جو آسانی سے ادا کر سکتے ہیں ماہوار چندہ ادا کیا کریں۔”ہاں جس کو اللہ جل شانہ توفیق اور انشراح صدر بخشے وہ علاوہ اس ماہواری چندہ کے اپنی وسعت ، ہمت اور اندازہ مقدرت کے موافق یک مشت کے طور پر بھی مدد کر سکتا ہے۔اور تم اے میرے عزیزو! میرے پیارو! میرے درخت وجود کی سرسبز شا خو! جو خدا تعالیٰ کی رحمت سے جو تم پر ہے میرے سلسلہ بیعت میں داخل ہو اور اپنی زندگی، اپنا آرام ، اپنا مال اس راہ میں فدا کر رہے ہو۔اگر چہ میں جانتا ہوں کہ میں جو کچھ کہوں تم اسے قبول کرنا اپنی سعادت سمجھو گے اور جہاں تک تمہاری طاقت ہے دریغ نہیں کرو گے۔لیکن میں اس خدمت کے لئے معین طور پر اپنی زبان سے تم پر کچھ فرض نہیں کر سکتا، تا کہ تمہاری خدمتیں نہ میرے کہنے کی مجبوری سے بلکہ اپنی خوشی سے ہوں“۔(فتح اسلام روحانی خزائن جلد 3 صفحه 33-34) پس ہر احمدی کی یہ کوشش ہونی چاہئے کہ اپنی مالی قربانیوں کو با قاعدہ رکھے تا کہ ساتھ ساتھ تزکیہ نفس بھی ہوتا رہے۔خلافت ثانیہ کے ابتدا میں جب سے چندہ عام کی ایک شرح مقرر