خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 330
خطبات مسرور جلد سوم کے وارث ٹھہریں۔وو 330 خطبہ جمعہ 3 / جون 2005ء ایک حدیث میں ابن مسعوددؓ بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دو شخصوں کے سوا کسی پر رشک نہیں کرنا چاہئے۔ایک وہ آدمی جس کو اللہ تعالیٰ نے مال دیا ہو اور اس نے اسے راہ حق میں خرچ کر دیا۔دوسرے وہ آدمی جسے اللہ تعالیٰ نے سمجھ، دانائی اور علم و حکمت دی اور اس کی مدد سے وہ لوگوں کے فیصلے کرتا ہے اور لوگوں کو سکھاتا ہے۔(بخارى كتاب الزكوة -باب انفاق المال في حقه) اللہ کرے کہ ہم اس فرمان کو سمجھنے والے ہوں اور اس رشک کی وجہ سے مالی قربانیوں اور انصاف قائم کرنے میں بڑھنے والے ہوں۔جب قربانیوں میں بڑھنے کی دوڑ شروع ہوگی تو نیکیوں میں بڑھنے کے حکم کے مطابق ہر شخص اپنی اپنی استعدادوں کے مطابق اپنی اس انتہا کو پہنچنے کی کوشش کرے گا۔اپنی استعدادوں کو انتہا تک استعمال کرنے کی کوشش کرے گا۔اور یوں ایک حسین اور پاک معاشرہ قائم ہو جائے گا۔جیسا کہ آپ سب کو علم ہے جماعت کے مالی سال کا یہ آخری مہینہ ہے عموماً جماعت کے متعلقہ عہد یدار جن کے سپرد چندوں کی وصولی کا کام ہوتا ہے بڑے پریشان ہو جاتے ہیں کہ ایک مہینہ رہ گیا ہے اور وصولیاں ابھی اس رفتار سے نہیں ہوئیں۔مجھے تو اللہ تعالیٰ کے فضل سے کوئی فکر نہیں اور پوری تسلی ہے کہ انشاء اللہ تعالیٰ وہ ہمیشہ کی طرح اب بھی جہاں کمی ہے اپنے فضل سے پوری فرمائے گا۔لیکن کیونکہ نصیحت کرنے اور توجہ دلانے کا بھی حکم ہے اس لئے میں احباب جماعت کو یہ توجہ دلانا چاہتا ہوں کہ جن کے چندہ عام کے بجٹ کی ادائیگی میں اور اسی طرح چندہ جلسہ سالانہ، یہ لازمی چندہ جات جو ہیں ان کی ادائیگی میں کمی رہ گئی ہے وہ کوشش کر کے ادا کریں۔جماعت کا بڑے عرصہ سے یہ مزاج بن گیا ہے کہ آخر وقت پر جا کر اپنے چندوں کی ادائیگی کرتے ہیں۔جو لا زمی چندے ہیں وہ تو آپ کو ہر ماہ ادا کرنے چاہئیں تا کہ بعد میں ادا ئیگی کا بوجھ نہ پڑے۔اور اس سے فائدہ یہ ہے کہ باقاعدہ چندہ دینے کا اور باقاعدہ قربانی کرنے کا جو ثواب ہے وہ بھی آپ حاصل کرنے والے ہوں گے۔