خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 329
خطبات مسرور جلد سوم 329 خطبہ جمعہ 3 / جون 2005ء فرمایا ہے۔ایک روایت میں آتا ہے کہ: ایک آدمی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا کہ اے اللہ کے رسول ! ثواب کے لحاظ سے سب سے بڑا صدقہ کیا ہے؟ آپ نے فرمایا ”اللہ کی راہ میں سب سے بڑا خرچ یہ ہے کہ تو اس حالت میں صدقہ کرے کہ تو تندرست ہو اور مال کی ضرورت اور حرص رکھتا ہو۔غربت سے ڈرتا ہو اور خوشحالی چاہتا ہو۔صدقہ و خیرات میں دیر نہ کر۔کہیں ایسا نہ ہو کہ جب جان حلق تک پہنچ جائے تو تو کہے کہ فلاں کو اتنا دے دو اور فلاں کو اتنا۔حالانکہ وہ مال اب تیرا نہیں رہا وہ فلاں کا ہو ہی چکا“۔(بخارى - كتاب الزكوة - باب فضل الصدقة الشحيح الصحيح) پھر ایک اور روایت میں آپ نے فرمایا: ” حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ صدقہ دے کر آگ سے بچو۔خواہ آدھی کھجور خرچ کرنے کی ہی استطاعت ہو۔(بخاری - كتاب الزكوة باب اتقوا النار ولو بشق تمرة ) پس جہاں صدقہ اور مالی قربانی کر کے ہم اپنے آپ کو اگلے جہان کی آگ سے محفوظ کر رہے ہوں گے وہاں دنیا کی حرص، لالچ اور ایک دوسرے سے دنیاوی خواہشات میں بڑھنے کی دوڑ سے بھی محفوظ ہورہے ہوں گے اور یوں آگ سے بچنے کے نظارے اس دنیا میں بھی دیکھیں گے۔کیونکہ حسد کی آگ بھی بڑی سخت آگ ہے۔احمدیوں میں تو بے شمار ایسے ہیں جو اس میدان کا تجربہ رکھتے ہیں۔وہ جانتے ہیں کہ جو سکون مالی قربانی کرنے کے بعد ملتا ہے اس کی کوئی مثال نہیں ، اس کا کوئی مقابلہ نہیں ہے اللہ تعالیٰ ہر احمدی کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اس حکم پر بھی عمل کرنے کی توفیق دے جس میں آپ نے فرمایا کہ: "الشُّح یعنی بخل سے بچو۔یہ بخل ہی ہے جس نے پہلی قوموں کو ہلاک کیا“۔(مسند احمد بن حنبل جلد 2 صفحه 159 160 مطبوعه بيروت ) اللہ تعالیٰ اس حکم پر عمل کرنے کی ہمیں توفیق دے اور ہم کبھی ہلاک ہونے والوں میں شمار نہ ہوں۔بلکہ اللہ تعالیٰ کی خوشنودی حاصل کرنے والے ہوں۔اس کے لامحدود فضلوں اور انعاموں