خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 320
خطبات مسرور جلد سوم 320 خطبہ جمعہ 27 رمئی 2005 ء پر غالب آ جاتا ہے اور نیک تبدیلی پیدا کر دیتا ہے۔جیسا کہ مسیح اول صلیب پر لٹکایا گیا لیکن مسیح ثانی صلیب پر نہیں لڑکا یا گیا۔کیونکہ میچ اول کے پیچھے موسوی طاقت تھی اور مسیح ثانی کے پیچھے محمدی طاقت تھی۔خلافت چونکہ ایک انعام ہے۔ابتلاء نہیں۔اس لئے اس سے بہتر چیز تو احمدیت میں آسکتی ہے جو کہ مسیح اول کو ملی لیکن وہ ان نعمتوں سے محروم نہیں رہ سکتی جو کہ مسیح اول کی امت کو ملیں۔کیونکہ مسیح اول کی پشت پر موسوی برکات تھیں اور مسیح ثانی کی پشت پر محمدی برکات ہیں۔پس الفضل 3 اپریل 1952ء صفحه 3 جہاں میرے نزدیک یہ بحث نہ صرف یہ کہ بیکار ہے بلکہ خطرناک ہے کہ ہم خلافت کے عرصہ کے متعلق بحثیں شروع کر دیں وہاں یہ امر ظاہر ہے کہ سلسلہ احمدیہ میں خلافت ایک بہت لمبے عرصے تک چلے گی جس کا قیاس بھی اس وقت نہیں کیا جا سکتا۔( یعنی اس لمبے عرصے کے بارے میں سوچا بھی نہیں جا سکتا یہ کہاں تک ہے؟ ) اور اگر خدانخواستہ بیچ میں کوئی وقفہ پڑے بھی تو وہ حقیقی وقفہ نہیں ہوگا بلکہ ایسے ہی وقفہ ہوگا جیسے دریا بعض دفعہ زمین کے نیچے گھس جاتے ہیں اور پھر باہر نکل آتے ہیں۔کیونکہ جو کچھ اسلام کے قرون اولیٰ میں ہوا وہ ان حالات سے مخصوص تھا وہ ہر زمانے کے لئے قاعدہ نہیں تھا۔تو حضرت خلیفہ اسیح الثانی کی یہ وضاحت میرے خیال میں کافی ہے کیونکہ آپ کو بہر حال اللہ تعالیٰ کی طرف سے رہنمائی ملی تھی۔ایسے خلیفہ تھے مصلح موعود تھے، حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے آپ کے ظاہری و باطنی علوم سے پُر کئے جانے کے بارے میں بتایا تھا۔اور بہر حال خلیفہ کے مقابل پر کوئی شخص بھی چاہے وہ کتنا ہی عالم ہو کم حیثیت رکھتا ہے۔کیونکہ جماعت کی رہنمائی اور بہتری کے لئے اللہ تعالیٰ خلیفہ سے ایسے الفاظ نکلوادیتا ہے جو اللہ تعالیٰ کی منشا کے مطابق ہوں۔پس ہر ایک احمدی کو کوشش کرنی چاہئے کہ جیسا کہ پہلے بھی ذکر آچکا ہے کہ لغویات اور فضولیات میں نہ پڑیں اور استحکام خلافت کے لئے دعائیں کریں تا کہ خلافت کی برکات آپ میں ہمیشہ قائم رہیں۔جہاں تک میرا سوال ہے، میری غلطیاں اگر نظر آتی ہیں تو مجھے بتا ئیں لیکن ہر جگہ بیٹھ کر یا خاص دوستوں میں بیٹھ کر ( بعض جگہ سے ایسی رپورٹیں مل جاتی ہیں ) کسی کو باتیں کرنے کا حق