خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 321 of 844

خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 321

خطبات مسرور جلد سوم 321 خطبہ جمعہ 27 رمئی 2005 ء نہیں ہے کہ اس میں یہ کمی ہے یا یہ کمزوری ہے۔اگر نیک نیت ہیں تو مجھے بتائیں۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ ایک اور جگہ فرماتے ہیں کہ ”میں سمجھتا ہوں کہ اگر جماعت احمد یہ ایمان بالخلافت پر قائم رہی اور اس کے قیام کے لئے صحیح جدو جہد کرتی رہی تو خدا تعالیٰ کے فضل سے قیامت تک یہ سلسلہ خلافت قائم رہے گا اور کوئی شیطان اس میں رخنہ اندازی (تفسیر کبیر جلد ششم صفحه 390) نہیں کر سکے گا۔“ پس ہر احمدی کو اس بات کو ہمیشہ سامنے رکھتے ہوئے دعاؤں کے ذریعہ سے ان فضلوں کو سمیٹنا چاہئے جن کا وعدہ اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے فرمایا ہے۔اپنے بزرگوں کی اس قربانی کو یاد کریں اور ہمیشہ یاد رکھیں کہ انہوں نے جو قیام اور استحکام خلافت کے لئے بھی بہت قربانیاں دیں۔آپ میں سے بہت بڑی تعداد جو میرے سامنے بیٹھے ہوئے ہیں یا جو میری زبان میں میری باتیں سمجھ سکتے ہیں اپنے اندر خاص تبدیلیاں پیدا کریں۔پہلے سے بڑھ کر ایمان و اخلاص میں ترقی کریں۔ان لوگوں کی طرف دیکھیں جو باوجود زبان براہ راست نہ سمجھنے کے باوجود بہت کم رابطے کے، بہت سے ایسے ہیں جنہوں نے زندگی میں پہلی دفعہ کسی خلیفہ کو دیکھا ہوگا اخلاص و وفا میں بڑھ رہے ہیں۔مثلاً یوگنڈا میں ہی جب ہم اترے ہیں اور گاڑی باہر نکلی تو ایک عورت اپنے بچے کو اٹھائے ہوئے ، دواڑھائی سال کا بچہ تھا، ساتھ ساتھ دوڑتی چلی جا رہی تھی۔اس کی اپنی نظر میں بھی پہچان تھی ، خلافت اور جماعت سے ایک تعلق نظر آ رہا تھا، وفا کا تعلق ظاہر ہورہا تھا۔اور بچے کی میری طرف توجہ نہیں تھی تھوڑی تھوڑی دیر بعد اس کا منہ اس طرف پھیر تی تھی کہ دیکھو اور کافی دور تک دوڑتی گئی۔اتنا رش تھا کہ اس کو دھکے بھی لگتے رہے لیکن اس نے پرواہ نہیں کی۔آخر جب بچے کی نظر پڑ گئی تو بچہ دیکھ کے مسکرایا۔ہاتھ ہلایا۔تب ماں کو چین آیا۔تو بچے کے چہرے کی جو ر وفق اور مسکراہٹ تھی وہ بھی اس طرح تھی جیسے برسوں سے پہچانتا ہو۔تو جب تک ایسی مائیں پیدا ہوتی رہیں گی جن کی گود میں خلافت سے محبت کرنے والے بچے پروان چڑھیں گے اس وقت تک خلافت احمدیہ کو کوئی خطرہ نہیں۔تو جیسا کہ میں نے پہلے بھی کہا کہ اللہ تعالیٰ تو کسی کا رشتہ دار نہیں ہے۔وہ تو ایسے ایمان