خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 317
خطبات مسرور جلد سوم 317 خطبہ جمعہ 27 رمئی 2005 ء لئے ضروری خیال فرمائے اور اس کے بعد ملوکیت کا دور آ جاتا ہے یعنی اتسلسل قائم نہیں رہتا۔ایک کے بعد دوسرا خلیفہ نہیں آتا۔روحانی طور پر سلسلہ ختم ہو جائے گا۔لیکن یہاں بھی واضح ہو کہ کیا جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا مشن تھا مکمل ہو گیا ہے؟ جیسا کہ میں نے کہا کہ یہ حضرت میاں صاحب کا اپنا نظریہ تھا اور اس بارے میں ایک دو اور جگہ اس مضمون میں جو میں نے الفاظ پڑھے ہیں اس سے ملتے جلتے الفاظ ہیں لیکن یہ صاحب حضرت میاں صاحب کے اسی مضمون میں یہ الفاظ بھی پڑھ لیں کہ بچے خلفاء کی علامات کیا ہیں۔آپ اس بارہ میں لکھتے ہیں کہ پہلی اور ظاہری علامت یہ ہے کہ مومنوں کی جماعت کسی شخص کو اتفاق رائے یا کثرت رائے سے خلیفہ منتخب کرے۔اب یہ صاحب بتائیں کہ کیا خلافت خامسہ کے انتخاب میں یہ نہیں ہوا۔مجلس انتخاب میں تو بہت سے ایسے ممبران تھے جو مجھے جانتے بھی نہیں تھے لیکن الہی تقدیر کے ماتحت انہوں نے میرے حق میں رائے دی اور اکثر نے یہ کہا کہ ہمارے دل میں یہ خدائی تحریک پیدا ہوئی ہے۔اور اس بات کی وضاحت بھی حضرت میاں صاحب نے مضمون میں کی ہوئی ہے۔بہر حال میں میاں صاحب کے حوالوں سے اس لئے بات کر رہا ہوں کہ ان کے مضمون میں ہی جواب موجود ہیں۔اور یہ بھی کہ تم جلد بازی نہ کرو۔پھر آپ لکھتے ہیں۔دوسری علامت یہ ہے جو باطنی علامتوں میں سے ہونے کی وجہ سے کسی قدر غور اور مطالعہ چاہتی ہے۔وہ ہے قرآن شریف کی آیت استخلاف یعنی وَلَيُمَكِّنَنَّ لَهُمْ دِيْنَهُمُ الَّذِي ارْتَضَى لَهُمْ وَلَيُبَةِ لَنَّهُمْ مِنْ بَعْدِ خَوْفِهِمْ أَمْنًا کہ اور ان کے لئے ان کے دین کو جو اس نے ان کے لئے پسند کیا ضرور تمکنت عطا کرے گا اور ان کے خوف کی حالت کے بعد ضرور انہیں امن کی حالت میں بدل دے گا۔آپ لکھتے ہیں کہ ہر خلیفہ کی وفات کے بعد عموماً جماعت میں ایک زلزلہ وارد ہوتا ہے۔جماعت کے لوگ خوفزدہ ہو جاتے ہیں۔ایسے وقت میں خدا کی سنت ہے کہ وہ اپنے مقرر کردہ خلیفہ کے ذریعہ انہیں اطمینان اور تمكنت عطا فرماتا ہے۔اب آپ میں سے ہر کوئی گواہ ہے بلکہ دنیا کا ہر احمدی گواہ ہے، ہر بچہ گواہ ہے کہ کیا حضرت خلیفتہ اسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ کی وفات کے بعد جو ایک خوف کی حالت تھی اسے اللہ تعالیٰ نے سکینت میں نہیں بدل دیا ؟ اگر ان صاحب کے لئے یہ دلیل کافی نہیں تو اللہ ہی رحم