خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 309
خطبات مسرور جلد سوم 309 خطبہ جمعہ 27 رمئی 2005 ء میں نہیں تھا یا مقصد نہیں تھا۔لیکن اس شخص نے جو آج کل مختلف لوگوں کو یہ مضمون بھیج رہا ہے اس کے عمل سے یہ لگتا ہے کہ جماعت خلافت کے بارے میں شکوک و شبہات میں گرفتار ہو۔مثلاً اس سے لگتا ہے کہ اس کی نیت نیک نہیں ہے کہ بذریعہ ڈاک جن کو بھی مضمون فوٹو کاپی کر کے بھجوایا گیا اس پر لکھا گیا ہے ، ایک مہر لگائی ہے کہ ایک احمدی بھائی کا تحفہ۔اب اگر نیک نیت تھا تو نام کے ساتھ بلکہ نظام جماعت سے یا مجھ سے پوچھ کر بھیج سکتا تھا کہ اس طرح اس مضمون کی میں اشاعت کرنا چاہتا ہوں۔بڑی ہوشیاری دکھائی ہے کہ مضمون انہیں الفاظ میں بھیجا ہے کہ خلیفہ خدا بناتا ہے۔خلیفہ معزول نہیں کیا جا سکتا وغیرہ کی وضاحتیں بھی اس میں ہیں۔لیکن حضرت میاں صاحب کے اس نظریے کو بھی اجاگر کیا گیا ہے کہ ایک وقت میں خلافت کی جگہ ملوکیت لے لے گی یعنی بادشاہت آجائے گی۔تو بہر حال یہ حضرت میاں صاحب کا اپنا ایک ذوقی نظریہ تھا۔اور حضرت خلیفہ اسیح الثانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اُس وقت اِس کا علم ہونے کے بعد اس نظریے کی تردید میں ایک وضاحت بھی شائع فرمائی تھی۔آگے وضاحت میں کچھ باتیں کھولوں گا۔تو ان صاحب کی حرکت سے لگتا ہے جیسے وہ یہ بات ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ پہلے چار خلفاء کی خلافت تو ٹھیک تھی لیکن اب خلافت نہیں رہی۔بہر حال اس بارے میں اسی مضمون سے دکھاؤں گا جو حضرت میاں صاحب کا ہے کہ یہ ان صاحب کی عقل کا قصور ہے اور جن کو یہ مضمون بھیجے گئے ہیں ان میں سے بھی اگر کسی کے دل میں کوئی شک ، کوئی شبہ ہے تو وہ بھی دور ہو جائے۔لیکن اس سے پہلے جو میں نے آیت تلاوت کی ہے اس کی کچھ وضاحت کروں گا جس کا ترجمہ یہ ہے کہ تم میں سے جو لوگ ایمان لائے اور نیک اعمال بجالائے ان سے اللہ نے پختہ وعدہ کیا ہے کہ انہیں ضرور زمین میں خلیفہ بنائے گا جیسا کہ اس نے ان سے پہلے لوگوں کو خلیفہ بنایا۔اور ان کے لئے ان کے دین کو جو اس نے ان کے لئے پسند کیا ضرور تمکنت عطا کرے گا۔اور ان کی خوف کی حالت کے بعد ضرور انہیں امن کی حالت میں بدل دے گا۔وہ میری عبادت کریں گے۔میرے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرائیں گے۔اور جو اس کے بعد بھی ناشکری کرے تو یہی وہ لوگ ہیں جو نافرمان ہیں۔