خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 306
خطبات مسرور جلد سوم 306 خطبہ جمعہ 20 رمئی 2005 ء تک کہ بڑھاپے میں آکر جبکہ قومی بیکار اور کمزور ہو جائیں گے۔آخر ان سب لذات دنیا کو چھوڑنا ہوگا۔پس جبکہ خود زندگی ہی میں یہ سب لذات چھوٹ جانے والی ہیں تو پھر ان کے ارتکاب سے کیا حاصل؟ بڑا ہی خوش قسمت ہے وہ انسان جو تو بہ کی طرف رجوع کرے۔اور جس میں اوّل اقلاع کا خیال پیدا ہو یعنی خیالات فاسدہ و تصورات بیہودہ کا قلع قمع کرے۔جب یہ نجاست اور نا پا کی نکل جاوے تو پھر نادم ہو اور اپنے کئے پر پشیمان ہو۔تیسری شرط عزم ہے۔یعنی آئندہ کے لئے مصمم ارادہ کر لے کہ پھر ان برائیوں کی طرف رجوع نہ کرے گا اور جب وہ مداومت کرے گا ( با قاعدگی کرے گا) تو خدا تعالیٰ اسے سچی تو بہ کی توفیق عطا کرے گا۔یہاں تک کہ وہ سیات اس سے قطعاً زائل ہو کر اخلاق حسنہ اور افعال حمیدہ اس کی جگہ لے لیں گے۔اور یہ فتح ہے اخلاق پر۔اس پر قوت اور طاقت بخشا اللہ تعالیٰ کا کام ہے کیونکہ تمام طاقتوں اور قوتوں کا مالک وہی ہے جیسے فرمایا أَنَّ الْقُوَّةَ لِلَّهِ جَمِيعًا) (البقرة: 166) (ملفوظات جلد 1 صفحه 87 88 جدید ایڈیشن - رپورٹ جلسه سالانه 1897ء صفحه 158) پس یہ اس حدیث کی وضاحت ہے کہ کس طرح ندامت اور پشیمانی کا اظہار ہو۔اللہ تعالیٰ ہمیں توفیق دے کہ ہم ہر وقت استغفار کرتے ہوئے اس کے حضور جھکے رہیں اور اس دنیا کے گند سے بچتے رہیں اور اللہ تعالیٰ کے وعدے کے مطابق اس کی محبت حاصل کرنے والے ہوں۔اور جب ہم اللہ تعالیٰ کی محبت حاصل کر لیں گے تو کبھی کوئی شیطان ہمیں دنیا کے گناہوں کی دلدل میں دھکیل نہیں سکتا۔اللہ تعالیٰ ہمیں سچی توبہ کی توفیق دے۔آمین 谢谢邀