خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 288 of 844

خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 288

خطبات مسرور جلد سوم 288 خطبہ جمعہ 6 رمئی 2005 ء آنحضرت صلی اللہ علیہ سلم نے ہمیں اس کی ایک مثال دی ہے۔جس سے واضح ہو جاتا ہے کہ جھوٹ کی تعریف کیا ہے۔چنانچہ حضرت ابو ہریرہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس نے کسی چھوٹے بچے کو کہا آؤ میں تمہیں کچھ دیتا ہوں اور اسے دیتا کچھ نہیں تو یہ جھوٹ میں شمار ہوگا۔یہ جھوٹ کی تعریف ہے۔اب اگر ہم میں سے ہر ایک اپنا جائزہ لے تو پتہ چلے گا کہ ہم روزانہ کتنی دفعہ چھوٹی چھوٹی باتوں پر جھوٹ بول جاتے ہیں۔مذاق مذاق میں ہم کتنی ایسی باتیں کر جاتے ہیں جو جھوٹ ہوتی ہیں۔تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد کے مطابق اگر ہم اس بارے میں گہرائی میں جا کر توجہ کریں گے۔تب ہم اپنے اندر سے اور اپنے بچوں کے اندر سے جھوٹ کی لعنت کو ختم کر سکتے ہیں۔اس بارے میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ : ” قرآن شریف نے جھوٹ کو بھی ایک نجاست اور رنجس قرار دیا ہے۔جیسا کہ فرمایا ہے ﴿ فَاجْتَنِبُوا الرِّجْسَ مِنَ الْأَوْثَانِ وَاجْتَنِبُوا قَوْلَ الزُّوْرِ﴾ (الحج: (31) دیکھو یہاں جھوٹ کو بُت کے مقابل رکھا ہے۔اور حقیقت میں جھوٹ بھی ایک بت ہی ہے ورنہ کیوں سچائی کو چھوڑ کر دوسری طرف جاتا ہے۔جیسے بُت کے نیچے کوئی حقیقت نہیں ہوتی اسی طرح جھوٹ کے نیچے بجر ملمع سازی کے اور کچھ بھی نہیں ہوتا۔جھوٹ بولنے والوں کا اعتبار یہاں تک کم ہو جاتا ہے کہ اگر وہ سچ کہیں تب بھی یہی خیال ہوتا ہے کہ اس میں بھی کچھ جھوٹ کی ملاوٹ نہ ہو۔اگر جھوٹ بولنے والے چاہیں کہ ہمارا جھوٹ کم ہو جائے تو جلدی سے دُور نہیں ہوتا۔مدت تک ریاضت کریں تب جا کر سچ بولنے کی عادت اُن کو ہوگی۔(ملفوظات جلد دوم صفحه 266 جدید ایڈیشن - الحکم صفحه 1 تا 3 مورخه 24/ اگست 1902ء) تو دیکھیں کتنی سچی بات آپ نے فرمائی ہے۔ہم روزانہ اپنی زندگی میں تجربہ کرتے ہیں کہ اگر کوئی جھوٹ بولنے والا سچ بھی بول دے تو تب بھی ہم اس کو جھوٹا ہی سمجھتے ہیں۔نیکی اور برائی کے ضمن میں ایک حدیث میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بعض نیکیوں اور بعض برائیوں کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ یہ کبھی ایک جگہ جمع نہیں ہو سکتے۔اس بارے میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کسی