خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 284 of 844

خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 284

خطبات مسرور جلد سوم 284 خطبہ جمعہ 6 رمئی 2005 ء وہ کرنی ضروری ہیں۔اور جن برائیوں سے رُکنے کا حکم دیا گیا ہے ان برائیوں سے رُکنا بھی ضروری ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر تم اس طرح نہیں کرتے تو پھر میرا تمہارے سے کوئی تعلق نہیں ہے۔نیکیوں کے کرنے اور برائیوں سے رکنے کے بارے میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام فرماتے ہیں : ” پس زبان کو جیسے خدا تعالیٰ کی رضا مندی کے خلاف کسی بات کے کہنے سے روکنا ضروری ہے۔اسی طرح امر حق کے اظہار کے لئے کھولنا لا زمی امر ہے۔يَا مُرُونَ بِالْمَعْرُوْفِ وَيَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ﴾ ( آل عمران : 115) مومنوں کی شان ہے۔امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کرنے سے پہلے ضروری ہوتا ہے کہ انسان اپنی عملی حالت سے ثابت کر دکھائے کہ وہ اس قوت کو اپنے اندر رکھتا ہے کیونکہ اس سے پیشتر کہ وہ دوسروں پر اپنا اثر ڈالے اس کو اپنی حالت اثر انداز بھی تو بنانی ضروری ہے۔پس یا درکھو کہ زبان کو امر بالمعروف اور نہی عن المنکر سے کبھی مت روکو۔ہاں محل اور موقع کی شناخت بھی ضروری ہے۔اور انداز بیان ایسا ہونا چاہئے جو نرم ہو اور سلاست اپنے اندر رکھتا ہو۔اور ایسا ہی تقویٰ کے خلاف بھی زبان کا کھولنا سخت گناہ ہے“۔یعنی ہمیشہ یہ یادرکھیں کہ حق کے اظہار کے لئے کبھی بزدلی کا مظاہرہ نہیں کرنا کیونکہ جرات سے نیکیوں کو پھیلانا ، ان کے کرنے کا حکم دینا اور برائیوں سے روکنا ہی ایک معیار ہے جس سے مومن ہونے کا پتہ چلتا ہے۔لیکن مومن کا عمل بھی اس کے مطابق ہونا چاہئے۔جب اپنا عمل بھی ہو گا تب ہی اثر بھی قائم ہو گا۔اور جب عمل ہوگا تو پھر سختی کی ضرورت نہیں رہے گی۔ایسے آدمی کی تلقین کا بھی لوگ نیک اثر لیں گے جن کے اپنے عمل بھی اچھے ہوں گے۔آپ نے یہی تلقین فرمائی ہے کہ اگر سمجھانے والے کے دل میں تقویٰ ہے، سمجھانے والے کے دل میں نیکی ہے، سمجھانے والے کے دل میں خدا تعالیٰ کا خوف ہے تو موقع کے مطابق اگر بات کرو گے تو نیک بات کا اثر ہوگا۔لیکن موقع محل کے حساب سے تلقین کرنا ضروری ہے۔اگر کسی کی برائی دیکھ کر لوگوں کے سامنے ہی اس کو سمجھانے لگ جاؤ گے اور زبان میں تیزی پیدا کرو گے تو پھر دوسرا شخص جس کو تم سمجھا (ملفوظات جلد اول صفحه 281-282 جدید ایڈیشن)