خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 283
خطبات مسرور جلد سوم 283 خطبہ جمعہ 6 رمئی 2005 ء ہے کیونکہ یہ خدا تعالیٰ کا حکم ہے۔پس ہر ایک کے لئے ضروری ہے کہ وہ نیکیوں کی تعلیم بھی دے اور ساتھ ساتھ اپنا محاسبہ بھی کرتا رہے، اپنا جائزہ بھی لیتا رہے کہ میری اصلاح ہورہی ہے کہ نہیں۔یہ انتہائی ضروری امر ہے۔اس بارے میں ایک روایت میں آتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے تم ضرور امر بالمعروف کرو اور تم ضرور نا پسندیدہ باتوں سے منع کرو۔ورنہ ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ تم پر اپنا عذاب نازل کرے۔اور عذاب نازل ہونے کے بعد تم دعا کرو گے مگر تمہاری دعا قبول نہیں کی جائے گی۔(ترمذى۔ابواب الفتن۔باب ماجاء في الأمر بالمعروف والنهي عن المنكر ) تو آئندہ آنے والی ہر مصیبت سے بچنے کے لئے یہ ضروری ہے کہ ایک مومن نیک باتوں کی طرف لوگوں کو بلائے اور برائیوں سے انہیں روکے۔تو جیسا کہ فرمایا کہ اس کام کو نہ کرنے کی وجہ سے تم پر عذاب آ سکتا ہے اور پھر دعا ئیں بھی قبول نہیں ہوں گی۔اس کا یہ بھی مطلب ہے کہ یہ نیک کام کرنے کی وجہ سے تمہاری دعائیں بھی قبول ہوں گی اور تم پر اللہ تعالیٰ کا فضل بھی ہوگا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نیک باتوں کے کرنے اور پھیلانے اور اسی طرح برائی سے رکنے اور دوسروں کو روکنے کے بارے میں اس طرح توجہ فرماتے تھے کہ آپ نے نیک کام نہ کرنے والے سے لا تعلقی کا اظہار فرمایا ہے۔چھوٹی سے چھوٹی بات پر بھی فرمایا کرتے تھے کہ نیکیاں کرو اور نیکیاں بجالاؤ۔چنانچہ ایک روایت میں آپ فرماتے ہیں وہ شخص ہم میں سے نہیں جو ہمارے بچوں پر رحم نہیں کرتا اور ہمارے بوڑھوں کی عزت اور احترام کا حق ادا نہیں کرتا اور معروف باتوں کا حکم نہیں دیتا اور نا پسندیدہ باتوں سے منع نہیں کرتا۔(ترمذی - کتاب البر والصلة – باب ما جاء في رحمة الصبيان) یعنی یہ معروف باتیں ہیں۔اس حد تک کہ بچوں کا بھی خیال رکھا گیا ہے۔کیونکہ ان سے حسن سلوک بھی نیک عمل میں ایک عمل ہے۔اسی طرح بڑوں ، بوڑھوں اور بزرگوں کی عزت کا اور احترام کا خیال رکھنا ہے اور اسی طرح اور دوسری نیکی کی باتیں ہیں جن کے کرنے کا حکم دیا گیا ہے