خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 282 of 844

خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 282

خطبات مسرور جلد سوم 282 خطبہ جمعہ 6 رمئی 2005 ء کو اختیار کریں تو اس کے ساتھ ہی چند برائیاں بھی چھٹ جائیں۔اور اس طرح پھر ہر احمدی کا دل ہر برائی سے پاک ہوسکتا ہے۔اور ہر ایک احمدی مسلمان جس کو نیکی کا حکم دینے اور برائیوں سے روکنے کا حکم ہے اسے سب سے پہلے اپنے آپ کو ہی برائیوں سے پاک کرنا ہوگا اور نیکیوں کو اختیار کرنا ہوگا۔تبھی وہ دوسروں کو حکم دے سکتا ہے۔ورنہ اگر ہم یہ نہیں کرتے تو ہم منافقت اور دوغلی باتوں کے مرتکب ہوتے ہیں۔اور ایسے لوگوں کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بڑا ہےا۔سخت انذار فرمایا ہے۔اور فرمایا ہے کہ ایسے لوگ جہنمی ہیں جن کے قول و فعل میں تضاد ہوتا ہے۔چنانچہ حضرت ابو وائل کی حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کے وسیلہ سے ایک لمبی روایت ہے۔اس میں وہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ ایک شخص کو قیامت کے روز لایا جائے گا۔پھر اسے جہنم میں پھینک دیا جائے گا۔اس کی انتڑیاں آگ میں پیٹ سے باہر نکل آئیں گی۔اس پر وہ ان کے گرد اس طرح چکر لگائے گا جس طرح گدھا اپنے کھونٹے کے گرد چکر لگاتا ہے۔پھر جہنم والے اس کے گرد جمع ہو جائیں گے۔اور اس سے پوچھیں گے تمہارا کیا معاملہ ہے۔کیا تو ہمیں معروف کام کرنے اور نا پسندیدہ امور کو ترک کرنے کا حکم نہ دیتا تھا ؟ اس پر وہ کہے گا کہ میں تم کو معروف کام کرنے کا حکم دیتا تھا۔مگر خود معروف کام نہ کرتا تھا۔اور میں تم کو نا پسندیدہ افعال کا مرتکب ہونے سے روکتا تھا مگر میں خود ان کو بجالاتا تھا تو دیکھیں کس قدر ڈرایا گیا ہے۔اس لئے ہر احمدی کو جو نیکیوں کی تلقین دوسروں کو کرتا ہے خود بھی ان نیکیوں پر عمل کرنا چاہئے۔اور خاص طور پر جن کے سپر د جماعت کی طرف سے یہ کام ہوتا ہے ان کو تو بہت زیادہ محتاط ہونا چاہئے اور اپنی اصلاح کی طرف توجہ کرتے ہوئے، اللہ تعالیٰ کے حضور جھکتے ہوئے ، اس کا فضل مانگنا چاہئے۔اللہ تعالیٰ ہم سب کو اس کی توفیق دے اگر یہ انذار سن کر کسی کو یہ خیال آئے کہ پھر تو بہتر ہے کہ میں خاموش رہوں اور کبھی نیکیوں کی تعلیم نہ دوں اور نہ بری باتوں سے روکوں جب تک کہ میں خود اس قابل نہیں ہو جاتا۔اگر یہ خیال آئے گا تو انسان اپنی اصلاح سے بے پرواہ ہو جاتا ہے۔اس لئے یہ تعلیم دینا بھی ضروری